و رفعنا لک ذکرک محمدﷺ

October 15,2019, ,Weather : °

یکساں نطام تعلیم: پرانا شکاری نیا جال

31 Jul 2019
یکساں نطام تعلیم: پرانا شکاری نیا جال

Audio: 

اشاعت جسارت لنک 

https://www.jasarat.com/2019/08/03/190803-03-5/

جاوید انور

عمران خاں  نے واشنگٹن میں پاکستانیوں کے عوامی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان میں یکساں نظام تعلیم لانے کی بات کی ہے۔ وہ  حکومت میں آنے کے بعد اول دن سے یہ بات کہہ  رہے ہیں۔بات تو واقعی دل لبھانے والی ہے کہ امیر اور غریب کے لئے ایک ہی نظام ہوگا۔ لیکن ان کا زیادہ زور مدرسہ کے طلباء  پر ہے۔ وہ  سوال کرتے ہیں کہ  مدرسہ کے غریب طلباء انجینیر اور ڈاکٹر کیوں نہیں بن سکتے(تالیاں)۔لیکن انھوں نے ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ اسکول (دنیاوی تعلیم) کے بچوں کو قرآن و سنت کی تعلیم حاصل کرنی ہوگی (مکمل خاموشی)۔عمران خاں صاحب نے یہ نہیں بتایا کہ نجی اسکولوں کے طلباء کی ایک انتہائی قلیل تعداد ہی ڈاکٹر اور انجینیر بن پاتی ہے اور سرکاری اسکولوں سے تو صرف چپراسی، چوکیدار، اور زیادہ سے زیادہ کلرک ہی نکل پاتے ہیں الا ما شاء اللہ۔یعنی  اب مدرسہ کے طلباء کی اکثریت کے مقدر میں بھی دین جیسی قیمتی متاع کی بجائے حقیر دنیا لکھی جانے والی ہے۔

ملک عزیز پاکستان میں ایک عرصہ سے یکساں نظام تعلیم کی بات ہو رہی ہے اور بہت مخلص لوگ یہ بات کہہ رہے ہیں۔ ان  کے مقاصد مختلف اور نیک تھے۔ سابق مدیر تکبیر شہید صلاح الدین ؒ نے بھی اس موضوع پر بہت لکھا اور بولاہے۔انگریزوں نے ہندوستان میں رائج مسلمانوں کے قدیم نظام تعلیم کوختم کر کے جو نظام تعلیم رائج کیا اور مسلمانوں نے بھی پرانے ملبہ سے جو نیا نظام نکالا تھا وہ بگڑتے بگڑتے اس شکل میں آچکا ہے کہ ہماراتعلیمی نظام تقسیم در تقسیم کے عمل سے گزر کر پوری قوم کو منقسم کر چکا ہے۔ پہلی تقسیم دین و دنیا کی تھی۔ اس کے بعد دنیا کی تقسیم سرکاری اسکول سے گرامر اسکول تک دسیوں مدارج ہیں۔ یعنی یہ تمام اسکول شو درسے لے کر  برہمن تک کی پیشہ وارانہ  ذاتیں؛ چپراسی، کلرک سے لے کر سیکریٹری، اور ڈپلومیٹ تک  نکالتا ہے۔ اس کے بعد دینی مدارس کی مسلکی بنیاد پر متعددتقسیم  ہے۔جس میں قرآن و سنت پر عمل سے زیادہ  فقہی مناظرہ کا رجحان زیادہ پایا جاتاہے۔ ہم بچوں کو مدرسہ اور اسکول میں تقسیم درتقسیم کے بعد یہ عجیب امید اور نرالی خواہش بھی رکھتے ہیں کہ قوم متحدد ہو جائے۔

 ہندوستان کاپرانا نظام تعلیم  جسے برطانیہ کی سامراجی حکومت نے تدریجاً مکمل ختم کر دیا تھا اس کی چند بنیادی خصوصیات  مندرجہ ذیل تھیں:

  1. وہ نظام تعلیم یکساں تھا، یعنی دین و دنیا کے لحاظ سے بھی اور امیر غریب کے لئے بھی۔
  2. تعلیم مفت تھی، مسلم دور میں کبھی بھی اور کہیں بھی فیس نہیں لی گئی بلکہ ان کے لئے کتاب، کپڑے،اور ضرورت کے مطابق اقامت مفت مہیا کی جاتی تھی۔کچھ ادوارمیں ہر طالب علم کو ان کی عمر اور قابلیت کے مطابق وظیفہ دیا جاتا تھا مثال کے طور پر اورنگ زیب کے زمانے میں ہر طالب علم کو  وظیفہ ملتا تھا۔اسلام میں زکوٰۃ کی مد میں سفر کرنے والے طلباء کو شامل کیا گیا ہے گرچہ کہ وہ عام حالات میں  زکوٰۃ کا حقدار نہ بھی ہو۔طلبِ علم کے لئے سفر کو مقدس ترین عبادت میں شمار کیا گیا  ایک حدیث کے مفہوم کے مطابق ایسے طلباء کو  فرشتے اپنے  پروں سے ڈحانپ لیتے ہیں۔
  3. وہ نظام کتاب کی بنیاد(base) پر تھا، نہ کہ کلاس کی بنیاد (base) پر۔ یعنی ایک طالب علم نے ایک کتاب ختم کی تواسے دوسری کتاب دے دی گئی۔یعنی ہر طالب علم اپنی رفتار سے چلتا تھا۔ کچھوا اور ہرن، گدھے اور گھوڑے ایک ساتھ نہیں جیسا کہ آج کے کلاس میں ہوتا ہے۔ ایسی مثالیں بھی ہیں کہ بعض عبقری طلباء سات سال کی عمر میں ہی تمام علوم سے فارغ ہوگئے۔
  4. طریقہ تدریس محض رٹا لگانے کی مشق نہیں بلکہ مباحثانہ تھا۔اسے طریقہ مبسوط کہا جاتا  ہے۔یعنی وسیع  اور ہمہ گیربحث و مباحثہ کے بعد ایک نتیجہ پر پہنچنا۔ اس سے فکری صلاحیت (critical thinking) میں بے پناہ اضافہ ہو تا تھا۔

5.تعلیمی نطام کو چلانے، نصاب بنانے، کتب لکھنے؛ یہ سارے کام علماء   ہی کرتے تھے اور اس میں حکومت کی کوئی مداخلت نہیں تھی۔علماء  کو اس کام کی مکمل آزادی حاصل تھی۔

  1. کسی مسلم حکمراں نے تعلیم کا الگ سے محکمہ یا وزارت نہیں بنایا۔ بڑے  بڑے اوقاف، معافیاں (tax exempted properties)   ہوتی تھیں جن پر علماء کا کنٹرول ہوتا تھا۔مسلمانوں میں عام رواج تھا کہ جائداد میں ایک تہائی  وصیت کسی تعلیمی ادارہ کو وقف کر دیتے تھے۔  علاوہ ازیں مختلف ادوار میں علماء کو  ماہانہ بھاری وظائف حکومت کی طرف سے دئے جاتے تھے تاکہ وہ معاشی طور پر بے فکر ہو کر تعلیم و تعلم کا سلسلہ جاری رکھیں۔

ہمیں شریعت کے جدید تقاضوں کے مطابق اسی نظام تعلیم کا احیاء کرنا ہے اور یہ کام پہلے کی طرح علماء کو ہی کرنا ہے۔جدید مغربی نظام کے تعلیم یافتہ، مغرب سے مرعوب غلامانہ ذہنیت کے حامل کسی شخص کو ایسی ذ مہ داری دینا، یا ان کی قیادت میں چلنا قومی تعلیمی خودکشی ہو گی۔ یہ تعلیمی خود کشی مکمل تہذیبی خود کشی  پر منتج ہوگی۔

 وزارت عظمیٰ کی کرسی سے لے کر وزارت تعلیم کے قلمدانوں کو دیکھ کر یہ کہا جا سکتا ہے کہ تعلیمی نطام کے کسی منصوبے پر ان پر اعتماد کرنا  ایسا ہی ہے جیسا کہ  بندر کے ہاتھ میں ناریل پکڑا کر اس کی طرف دیکھنا۔عمران خاں کا ”نئے پاکستان“ کا ”یکساں نظام تعلیم“ دراصل  وہ مغربی اور امریکی نیو ورلڈ آرڈر، اور اسرائیلی نیو سنچری ایجنڈا  21  کا  حصہ ہے جس پر نائن الیون کے بعد مسلم دنیا میں پوری طاقت سے بروئے کار لایا گیا ہے۔بم اور بارود سے  اجڑتے شہر اور مرتے انسان تو سب نے دیکھے  لیکن نئے تعلیمی نظام کے مذبح خانوں میں نسلوں کو  کاٹنے کا منظر اوجھل رہتا ہے۔اکبر الہٰ بادی (وفات 1921)نے نئے مغربی نظام تعلیم اور سرسید کے  علی گڑھ کالج  پر تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ:

یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا             

افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی              

 اکبر الہٰ بادی اگر آج زندہ ہوتے تو  انھیں معلوم ہوتا کہ آج کا فرعون بچوں کو تلوار اور تعلیم دونوں سے کاٹتا ہے۔ تلوار کی کاٹ  وقتی ہے، تعلیم کی کاٹ مستقبل کی نسل کشی ہے۔

 وزیر اعظم عمران خاں کے وزیر خزانہ اسد عمر آئی ایم ایف کے حکام سے گفتگو اور قرض کی شرائط سن کر تاب نہ لا سکے۔ انھوں نے شرم کے مارے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر میں آئی ایم ایف کے شرائط بتاوں تو قوم ہمیں جوتے مارے گی (بیان کامفہوم یہی تھا)۔کاش کہ وہ قوم کو وہ شرائط بتا کر اس قوم پر ایک احسان کردیتے جس قوم  نے آپ پر بے پناہ احسان کیا ہے۔ اسد عمر  صاحب! آپ  غیرت ایمانی کا مظاہرہ کریں۔  وزارت والی نوکری آنی جانی ہے، موت کے بعد دوبارہ دنیا کی  زندگی نہیں آنی۔ اگر آپ نہ بھی بتائیں تو میں آپ کو ان کی چند شرائط بتا سکتا ہوں جو لازماً شامل ہوں گی۔ ۱۔ دینی مدارس، اور علماء کی قوت اور دینی نظام کا تدریجاً خاتمہ  ۲۔  نیا یکساں تعلیم نظام جس میں اخلاق باختہ، مادہ پرست انسان اور صنعتی پیداواری کارکن تیا ر ہوں۔ ۳۔صنفی منحرفین اور جنسی مرتدین (LGBTTIQ) کو مکمل آزادی اور اس کلچر کا فروغ  (آبادی کم کرنے کا سب سے موثر ترین ذریعہ)۴۔ عورت کی آزادی کے مغربی تصور سے مکمل ہم آہنگی۔ دوسری تمام شرائط اندرونی رازداں جان پارکن کی کتابConfessions of an Economic Hitman میں موجود ہے۔ اس کتاب کا ترجمہ جسارت میں قسط وار شائع ہو چکا ہے۔

نئے یکساں مغربی تعلیمی نطام کا مقصد یہ ہے کہ عورت  ماں بننے کے قابل نہ رہے اور بن جائے تو چند پیداواری کارکن پیدا کر لے۔ا س کے بطن سے حریت پسند مجاہد نہیں نکل سکتے۔ سعودی عرب سمیت بیشتر مسلم ممالک میں اس نطام تعلیم کو بروئے کار لایا جا چکا ہے۔سعودی عرب کے نئے لبرل قوانین اسی تعلیم نظام کا شاخسانہ ہیں۔میوزک اور ڈانس کا انعقاد اس لئے ہو رہا ہے کہ اس کی طلب بڑھ گئی ہے۔ افغانستان میں گزشتہ بیس برسوں میں امریکا نے اسی تعلیم نطام کا  ڈائنامائیٹ (dynamite)  بچھایاہے جسے وہ ہر حال میں محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔

تعجب ہے کی پاکستان کے علماء اورمدرسین اور منتظمین اس نئے جال میں آسانی سےپھنس رہے ہیں۔  تما م مدارس کو رجسٹڑیشن  کے لئے کہا جا رہا ہے یعنی”ا سلامی جمہوریہ پاکستان“ کے نئے حکمرانوں کے نزدیک مدرسہ کی حیثیت ایک صنعت کی اور  مدرسین کی حیثیت پیداواری کارکن  (لیبر)کی ہے۔ مدارس کی رجسٹریشن کے لیے 12 سینٹرپورے ملک میں کھولے جائیں گے۔ وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے پاکستان علماء کونسل کے مرکزی چیئرمین اور وفاق المساجد و المدارس کے صدر حافظ محمد طاہر محمود اشرفی سے ملاقات کے دوران ایک طرف یہ بات کہی کہ مدارس کے دینی نصاب میں کوئی تبدیلی نہیں کی جائے گی، مدارس کی آزادی، خود مختاری قائم رہے گی،اور دوسری ہی سانس میں یہ بات بھی کہ دی کہ موجودہ حکومت صرف مدارس نہیں پورے تعلیمی نظام میں اصلاحات لا رہی ہے،”ایک قوم ایک تعلیم“ ہمارا ہدف ہے،  انھوں نے کہا کہ قومی نصاب تعلیم کی کمیٹی میں مدارس کے نمائندے شامل ہیں، مدارس کی مشکلات کوختم کرنا چاہتے ہیں، مدارس کے طلبہ کے لیے ہر سطح پر احساس اور احترام پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مدارس کی رجسٹریشن بینک اکاؤنٹ اور دیگر امور پر معاہدہ ہو چکا ہے، انہوں نے کہا کہ مدارس کے موجودہ امتحانی بورڈز کے ساتھ جو مدارس منسلک نہیں ان کی رجسٹریشن کے لیے بھی پالیسی بنائی جائے گی۔(نمائندہ جسارت 26  جولائی)

مجھے حد درجہ تعجب ہے کہ علماء اس پر کس طرح راضی ہوگئے اور کس آسانی سے ان کے جال میں پھنس رہے ہیں۔ وقتی حکومتی مالی فوائد اور دیگر سہولیات کے خاطر آپ متاع گراں بہا سے محروم کئے جا رہے ہیں۔ کاش کہ آپ کو اس نزاکت کا احساس ہو۔ہمارے اسلاف نے  سامراجی جال سے بچتے ہوئے گزشتہ دو ڈھائی سو سال میں کسمپرسی کی حالت میں لیکن معاشی آزادی کے ساتھ اس نطام کو بچایا ہے وہ آپ اسے دنوں اور لمحوں میں ضائع کر رہے ہیں۔

jawed@seerahwest.com

 

Muslim Amin

کیا کریں اور کہاں جا کر فریاد کریں۔ ہم صرف دکھ کا رونا رو سکتے ہیں۔

Ehsan

Ma Shaa Allah.. Shaandar. The real issue.

Anwar Ahmad

To have one equal educational reformed system is the need of time. To get a balance between religious and technical education is very important, those who are being getting education in madrassas must need to get science and technical education as well. So that after certain period of time students should get religious and science/technical education degree as well.

ابو حنیفہ

بہت خوب جزاک اللہ خیرا بالکل درست فرمایا

Shan Ali Khan

Maulana Fazul ur Rahman should confront IK before its too late.

Your Comment