و رفعنا لک ذکرک محمدﷺ

August 22,2019, ,Weather : °

ڈاکٹر خورشیدخاں بھی چلے گئے: اب کس سے بات کرو گے

28 Feb 2019
ڈاکٹر خورشیدخاں بھی چلے گئے: اب کس سے بات کرو گے

 

 سید جاوید انور

نیو یارک میں ساڑھے آٹھ سال تک مستقل قیام کے بعد جب بھی نیو یارک جانا ہوتا، چند افراد کی ایک مختصر سی لسٹ تھی جس سے مجھے ضرور بہ ضرور (تاکیداً) ملناہوتا تھا۔ اس میں ایک نام اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا (ICNA)، یو ایس اے کے سابق صدر ڈاکٹر خورشید خاں کا ہے۔ان کا 21 فروری2019 کو شب جمعہ انتقال ہو گیا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔بعد نماز جمعہ لانگ آئی لینڈ کی مسجد بلال میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ پورے نیویارک سے مسلم کمیونٹی کی ایک بڑی تعداد جو چند ہزار پر مشتمل تھی شامل ہوئی۔ وہ وہاں قریب کے ہی قبرستان میں دفن کر دئے گئے۔ 
اب سوچ رہا ہوں کہ اب کس سے بات کروں گا۔ میری لسٹ سکڑتی جا رہی ہے۔ اہل دل اور اہل نظر اٹھتے جا رہے ہیں۔ نیویارک کی رہائش کے دوران کے ساتھی خالد فاروقی، طہور صاحب (بانی جمائکا مسلم سنٹر)، ا ور شمیم صدیقی مرحوم ہو گئے اور اب خورشید خاں بھی داغ مفارقت دے گئے۔ 
میری بیوی کوشروع سے مجھ سے یہ سنجیدہ شکایت رہی کہ دوستی اپنے سے کہیں زیادہ عمروالوں کے ساتھ کرتے اورخود بھی بڈھے لگتے ہیں۔ جب میں پری یونیورسٹی میں تھا تو ایل ایل بی اور ایم اے کے طلبا میرے دوست ہوا کرتے تھے۔یہ عادت پرانی ہے۔۔جو کبھی نہیں بدلی۔۔شاید اس کی وجہ بچپن سے مطالعہ کی عادت ہے۔ ظاہر بات ہے کہ مطالعہ مذاکرہ طلب کرتا ہے اور ہم عمر طلبا سے وہ مذاکرہ ممکن نہ تھا۔اب میرا نیا ریزولیشن ہے کہ دوستی کم از کم بیس سے تیس سال کم کے افراد سے کی جائے۔یعنی اب ہم نے ترتیب الٹ دی ہے۔ کیونکہ پہلے سننا مقصود تھا اب سنانا مقصود ہے۔ 
کسی انسان کی فوتگی پر ایک کالم نگار جب تعزیت کے لئے قلم اٹھاتا ہے تو اس کی کئی وجوہات ہوتی ہیں۔ ایک وجہ تو ظاہر ہے کہ گزرے ہوئے انسان کی کچھ ایسی خصوصیات اور کچھ ایسے خوش نما نقوش ہوتے ہیں جو مصنف اورکالم نگار کو بھاتے ہیں اوروہ چاہتا ہے کہ لوگوں میں اسے عام کر دے اور اس سے اپنے تعلق اور محبت کا اظہار کر ے۔ میرے نزدیک وہ ایک بہترین منتظم، بے شمار صلاحیتوں کے مالک،تعلیمی، تحریکی ،انتہائی متواضع، اور منکسر المزاج شخص تھے۔ ان کے نزدیک مجھ جیسا ناچیز بھی امریکی مسلمانوں کا سب سے بڑا رائٹر تھا۔میرے زیر ادارت نکلنے والا اخبار مسلمز ویکلی ان کے نزدیک امریکا کا سب سے بڑا اخبار تھا۔اس سے قبل جسارت اور پاکستان نیوز نیو یارک میں شائع ہونے والے میرے کالموں کو وہ شوق سے پڑھتے تھے اوراس کا تذکرہ بھی کرتے تھے۔
ڈاکٹر خورشید خاں مرحوم کی میں قدر یوں بھی کرتا تھا کہ ان کی زندگی کا محور اسلامی تعلیم اور اسلامی اسکول تھا۔ اور تعلیم و تربیت سے وابستہ افراد کے احترام کو میں نے لازم کیا تھا۔ خیال ہے کہ نیو یارک میں کم از کم چار یا پانچ اسلامی اسکولوں کے وہ پرنسپل، کئی فل ٹائم، اور کئی سنڈے اسلامک اسکولوں کے وہ بانی رہے ہیں۔ میں نے کئی بار ان کا انٹڑویو کیا تھا۔ اکنا مرکز جمائکا کے سنڈے اسکول میں میری بیٹی کو پڑھانے(volunteer) پر اصرار کرتے تھے بلکہ یوں کہا جائے کہ خوشامد کرتے تھے۔وہ کہتے تھے کہ چھوٹے بچوں کو ان سے بہتر کوئی نہیں سنبھال سکتا۔ان کی تواضع اور انکساری کی یہ انتہا تھی کہ جب بھی ملاقات ہوتی وہ سمیہ کے بارے میں ضرور معلوم کرتے۔ حالانکہ اس نے ایک قلیل مدت ہی وہاں پڑھا تھا۔اکنا مرکز سنڈے اسکول اوروہ تمام اسکول جس کے وہ بانی ہیں اور جس کے وہ پرنسپل رہے وہ آج سارے زندہ ہیں۔ ترقی کے بہت سے مراحل طے کر چکے ہیں۔بلا شبہ وہ سب ان کے لئے صدقہ جاریہ ہے۔
ان کی اسلامی رضاکاریت کی ابتدا تمام اسلامی مراکز کی ماں نیو یارک اسلامک سنٹر، فلشنگ، نیو یارک (المعروف فلشنگ اسلامک سنٹر، نیو یارک) سے ہوئی جس کے سنڈے اسکول کے وہ ٹیچر تھے۔فلشنگ اسلامی سنٹر یقیناً وہ مرکز ہے جس سے جڑے لوگوں نے بیشمار اسلامی اداروں کو جنم دیا۔بڑے بڑے نام اس سے جڑے ہیں۔ ڈاکٹر خورشید خاں بھی اس سنٹر کے مختلف اہم عہدوں پر فائز رہے۔ امام محمد نسیم (المعروف م نسیم) جو اکنا مرکز کے امام بھی رہ چکے ہیں اور جو علمی و ادبی شخصیت اور ہر مذہب، فرقہ میں ہر دلعزیز تھے، وہ بھی مسلم سنٹر فلشنگ کی خدمات کے بہت زیادہ قائل تھے۔ انتقال کے بعد میں نے ان کو خواب میں دیکھا کہ وہ فلشنگ مسلم سنٹر میں گوشت خریدنے کے لئے کھڑے ہیں۔میں نے پوچھا کہ آپ گوشت خریدنے یہاں آتے ہیں؟ کہنے لگے کہ ہاں! یہاں سب سے اچھا گوشت ملتا ہے۔ اس خواب کی تعبیر یہ کہ یہ سب سے بہترین اسلامک سنٹر ہے۔ یہاں اہل دل اور اہل خلوص کا بہت وقت لگا ہے۔ اس سنٹر کا نام آتے ہی بہت سے نام سامنے آجاتے ہیں۔میں ان ناموں کا ذکر یہاں اس لئے نہیں کر رہا کہ کسی کا نام سہواً رہ گیا تو نا انصافی ہوگی، البتہ میں طارق شیروانی اور شمشیر علی بیگ کا نام اس لئے لینا چاہوں گا کہ ان کی طبیعت سخت خراب ہے، آپ ان کی صحت یابی کے لئے دعا کریں۔
ڈاکٹر خورشید احمد اس فلشنگ اسلامک سنٹر کے چیرمین بھی رہے صدر بھی رہے اور انھوں نے مختلف ذمہ داریاں سنبھالیں۔خصوصاً اس سنٹر کے اسکول کے قیام میں انھوں نے رات دن ایک کیا ۔ انھوں نے کام میں مصروف ہو کر اپنی صحت کا کبھی کوئی خیال نہیں رکھا۔
یہاں پہنچ کر جس بات کا مجھے شدت سے احساس ہوتا ہے کہ ہماری کمیونٹی میں بنیادی طور پر احسان فراموشی اور ناقدری کا رجحان زیادہ ہے۔نیک لوگوں کی نہ ان کی زندگی میں قدر ہوتی ہے، نہ مرنے کے بعد۔ اس کالم کو میں طول اس لئے بھی نہیں دینا چاہتا کہ لوگوں کے پاس تعزیتی کالم پڑھنے کا بھی وقت نہیں ہے۔اب اداروں میں ان لوگوں کا زیادہ غلبہ ہے جو کبھی ’’درد‘‘ کے کسی مرحلہ سے نہیں گزرے۔ ایک سنگدلی کا ماحول ہے۔

تجھے سنگ دل یہ پتہ ہے کیا کہ دکھے دلوں کی صدا ہے کیا؟

ڈاکٹر خورشید خاں اکنا اور فلشنگ سنٹر کے علاوہ درجنوں اداروں سے وابستہ اور سرگرم رہے۔ اس میں سب سے نمایاں نیو یارک کی مساجد، اسلامک سنٹر اور اسلامی اداروں کا اتحاد مجلس الشوریٰ آف نیو یارک ہے۔وہ نیو یارک سٹی، نیویارک پولیس، اور دیگر حکومتی اداروں کی جانب سے کمیونٹی کے لئے منعقد ہونے والی تمام تقریبات میں پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ اور ان کی کئی کمیٹیوں میں بھی شامل تھے۔ وہ حددرجہ متحرک کارکن تھے۔ کئی برسوں سے وہ بیمار تھے اور بہت کمزور تھے لیکن انھوں نے اپنی کوئی سرگرمی ختم نہ کی، سوائے اسکول کے پرنسپل کی جاب کے۔۔ گھر پر انتہائی بیمار،بستر پرفراش اپنی بیوی اوراسی طرح کی کچھ کیفیت میں ایک بیٹے کی مکمل تیمارداری، گھر کی صفائی، کھانے کا انتظام اور اس کے بعد کمیونٹی کی دینی سرگرمیاں جاری رکھنا بہت بڑی بات ہے۔ اس کا اندازہ کوئی نہیں لگا سکتا۔ چندسال قبل میں نیویارک گیا ہوا تھا۔ فلشنگ مسلم سنٹر کی سالانہ فنڈریزنگ ایک ہوٹل میں منعقد ہو رہی تھی۔ وہ اس تقریب میں مجھے اور ایک اورصاحب کو اپنی اپنی رہائش سے اپنی کار میں لے کر گئے تھے۔ بہت بیمار اور لاغر لگ رہے تھے۔ ایسا لگتا تھا کہ مشکل سے اسٹیرنگ کو سنبھالا ہوا ہے۔گاڑی بھی بہت پرانی اور خراب حالت میں تھی۔ گاڑی کسی بھی وقت بیچ سڑک پر خراب ہو سکتی تھی۔۔۔
میں نے سوچا کہ کس قدر ہمت والا ہے یہ شخص۔ کیسا جواں دل انسان ہے۔
جو لوگ اس دنیا میں اچھے کام اور متحرک زندگی گزارتے ہیں، ضروری ہے کہ اس کے دوست کے ساتھ ساتھ مخالفین بھی ہوں اوراکثر مخالفین ہی زیادہ ہوتے ہیں۔ ’’دین حق‘‘ کے داعیوں کا یہ مقدرہے۔ایک طرف مخالفت دین کے دشمنوں کی طرف سے ہوتی ہے جو داعی خوشی خوشی جھیلتا ہے۔ ایک مخالفت اندرونی ہوتی ہے جس کی مخالفت سے داعی کا کلیجہ پھٹتا ہے۔ یہ روح میں ا ترتا جاتا ہے۔ ڈاکٹر خورشیدخاں کے مخالف کم تھے، لیکن تھے ضرور۔
میں اس تعزیتی کالم کے ذریعہ تمام دوست، احباب اوررشتہ رداروں سے گزارش کروں گا کہ اگر دنیا میں آپ کے کسی قسم کے حقوْق کسی پر ہیں تو اس کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ وہ حق معاف کر دیں اور یہی بہتر ہے اور نہیں معاف کرسکتے تو اپنا حق کسی طرح سے اس کی زندگی میں لے لیں اور کسی بھی حالت میں اپنے بھائیوں اوربہنوں کو آخرت میں رسوا نہ کرائیں۔۔۔ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ معاف کرنے والوں کو معاف کر دیں گے۔۔مجھے حیرت ہے کہ آخرت میں اللہ کی مغفرت کے طلبگار اپنا کوئی حق دنیا میں معاف کرنے کے لئے تیار نہیں۔ اس معاف نہ کرنے کی بیماری بڑے بڑے جبہ و دستار اور قائدین کو بھی لاحق ہے، بلکہ ان میں زیادہ ہی لاحق ہے۔ تکبر، انا، بے قدری،بے احترامی احسان فراموشی کے عارضات ہماری اجتماعیت کو گھن کی طرح کھا رہی ہیں۔
داکٹر خورشیدخاں اب اس دنیا میں نہیں رہے، یقیں محکم، عمل پہیم، محبت فاتح عالم کا ایک نمونہ تھا وہ اب ہم میں نہیں رہا۔لیکن ان جیسے جو بھی موجود ہیں ان کی قدر کرنے کا موقع باقی ہے۔آپ کے ارد گرد بہت سے ایسے لوگ ہیں جو آپ سے عمر میں بڑے ہیں، بہت سے علم اور تقویٰ میں بڑے ہیں، بہت سے آپ سے صلاحیتوں میں بہتر ہیں۔یہ ممکن ہے کہ سب کے سب ہم سے کسی نہ کسی حیثیت سے بڑے ہوں، تو قدرداں بنیں۔ڈاکٹر خورشید خاں کے لئے بس یہی کہوں گا کہ:
قدر پہچانی نہ اپنے گوہر یک دانہ کی
۔۔۔۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

............................

jawed@seerahwest.com 

Arshad Khan

Salaams Mr Jawed Anwar: Please review email that was sent today to yourself. I recall my friendship during 1971-75 with Tariq Sherwani/Flushing.. Please google us{ UMMAA Broadcasting, USA} you will feel energized. Best Regards, Engr Arshad Ali Khan, Rolla, MO-65401 (UMMAABroadcasting@gmail.com

Your Comment