و رفعنا لک ذکرک محمدﷺ

October 15,2019, ,Weather : °

پاکستان کے مدارس اور علماء: کیا 1857 دوہرانے کی تیاری ہے؟

01 Aug 2019
پاکستان  کے مدارس اور علماء: کیا 1857  دوہرانے کی تیاری ہے؟

جاوید انور

برصغیر کی تاریخ میں 1857  ایک تاریخ کا خاتمہ اور ایک تاریخ کے آغاز کا نام ہے۔ تاریخ اسلامی کا خاتمہ اور تاریخ مغرب کی ابتدا۔اس سے قبل ایک سو  برسوں میں انگریز  ہندوستان کے بیشتر علاقوں پر قابض ہو چکے تھے۔اور علماء  اور مدارس کو تباہ کرنے اور ان کو  بند کرنے کی تدابیر کر چکے تھے۔ لیکن 1857کی  جنگ آزادی جس کا مرکز د ہلی تھا، نے ان کے غصہ کو انتہائی بھڑکا دیا تھا۔ اس غصہ کا رخ علماء ہند تھے جو اس جہاد، اس جنگ آزادی کے روح رواں تھے۔چنانچہ بہت تیزی سے مدارس کے نظام کو سمیٹ دیا گیا۔علماء کے زیر نگرانی حکومتوں سے آزاد اس خودکار تعلیمی نظام کی معاشی ریڑھ کو توڑ دیا گیا۔ان کے ذرائع و وسائل اور ان کے لئے قائم اوقاف اور معافیاں انگریزی حکومت کے قبضہ میں چلی گئیں۔عوام کا علماء سے رابطہ توڑنے کے لئے  ان کے خلاف  باضابطہ مہم بہت پہلے سے ہی شروع ہو چکی تھی جس کے تین اہداف تھے۔ ا۔ ان مدارس سے لوگوں کو بدظن کیا جائے  ۲۔ان کے طلباء  کے لئے رزق کے دروازے بند کر دئے جائیں۔۳۔  مدارس کے ذرائع آمدنی  پر حکومت قابض ہو جائے۔ ان تینوں اہداف کے لئے انگریزوں نے بھرپور کام کیا۔ انتہائی قابل، تعلیم یافتہ  اور اسکالرز کے لئے جو ٹائٹل تھے”مولوی“ اور”ملاّ‘، وہ ایک گالی اور لوگوں کے لئے ایک چڑ کا موضوع بنا دیا گیا۔ان کو ایک مکروہ شکل میں حقیر بنا کر پیش کیا جانے لگا۔ ان مدارس کے بڑے بڑے تعلیم یافتہ لوگوں کے لئے انگریزوں کے یہاں کوئی ملازمت نہیں تھی۔ انگریزوں نے تین مرحلوں میں قانون بازیافت  (Resumption Act)نافذ کیا اور مسلمانوں کے اپنے قائم کردہ اوقافوں اور جائدادوں پر قبضہ کر لیا۔لاکھوں علماء کے خاندان معاشی طور پر تباہ ہو گئے۔ان کے لئے رزق کے دروازے بند کر دئے گئے۔دنیا ان کے سامنے اندھیر کر دی گئی۔ملک بھر میں پھیلے ہوئے کلکتہ سے لے کر ٹھٹھہ تک ہزاروں، لا کھوں مدارس بند ہوئے۔1835 میں گورنر جنرل ہندوستان لارڈ ولیم بنیٹنک نے ایک قرادداد کے ذریعہ برطانوی ہند میں تعلیم کے لئے ہمیشہ کے لئے خطوط متعین کر دئے۔جو آج تک ”آزادی“ کے بعد بھی پاکستان میں کم و بیش جاری ہے۔ قرارداد:  ۱۔ سرکاری تعلیم کا مقصد ہندوستان میں مغربی علوم و سائنس کی اشاعت ہے  ۲۔ آئندہ سے ملک کی سرکاری زبان انگریزی ہو گی۔ ۳۔ علوم و فنون کی تدریسی زبان بھی انگریزی ہوگی۔۴۔ مشرقی علوم کی اشاعت پر آئندہ سے کوئی پیسہ خرچ نہیں ہوگا  ۵۔ طلبہ کو وظیفہ دینے کا قدیم طریقہ بند ہو گیا۔ اس قرارداد کو بعد میں ایکٹ نمبر29  مجریہ 1837 کے ذریعہ ملکی قانون کا درجہ دے دیا گیا۔ اس حکم سے ہندوستان سے مشرقی زبانوں اور مشرقی علوم کا ہزار سالہ تعلیمی سلسلہ ختم ہو گیا۔ زندگی کی دوڑ میں ایک انتہائی تعلیم یافتہ قوم کو زبردستی پیچھے دھکیل دیا گیا۔اور تعلیم کو اپنے ان خاص الخاص باشندوں کے لئے محدود کر دیا جو انگریزوں کے نزدیک قابل اعتماد تھے اورحکمراں اور عوام کے درمیان رابطہ بلکہ درست الفاظ میں ان کو غلام بنائے رکھنے میں معاون و مددگار ہوسکتے تھے۔ مشہور فلسفی جان اسٹوراٹ کا والد مل(Mill) لکھتا ہے”اس قرار داد میں یہ حقیقت نظر انداز کر دی گئی ہے کہ غیر ملکی زبان و ادب کو  ایک قلیل اقلیت تو اختیار کر سکتی ہے لیکن قومی ادب تو قومی زبان میں ہی  تیار ہو سکتا ہے۔انگریزی جیسی مشکل زبان جو ہندوستان کے مزاج سے بھی مناسبت نہیں رکھتی، کبھی بھی عوامی زبان نہیں بن سکتی ہے۔“ میکس مولر نے سرکاری شہادتوں اور مشنریوں کی رپورٹوں کی بنا پر لکھا کہ ”انگریز عملداری سے پہلے صرف بنگال میں اسی ہزار 80,000مکاتب موجود تھے گویا ہر چار سو کی آبادی پر اوسطاً ایک مکتب موجود تھا۔لیکن جن مقامات پر پرانا نظام تعلیم ہم نے ختم کر دیا ہے وہاں گاوُں کے گاوُں مدرسوں سے خالی پڑے ہیں۔(ایجوکیشن ان انڈیا، باسو۔حوالہ   ”ہند و پاک میں مسلمانوں کا نظام تعلیم و تربیت“ از پروفیسر محمد سلیم)۔857  1کی جنگ آزادی پر انگریزوں نے قابو پاکر سات ہزار علماء کو تہ تیغ کر دیا (قیصر التواریخ، از کمال الدین حیدر)۔ اور ایسے تو لاکھوں میں ہوں گے جن کو یا تو جلا وطن کیا گیا یا از خود ہجرت پر مجبور ہوئے۔  اور ایک طرح سے مدارس اور علماء دونوں کا تقریباً  صفایا ہو گیا۔

مسلمانوں کے تعلیمی نظام کے اس ملبہ سے  دو نظام تعلیم برآمدکئے گئے جن کے لئے دو تحریکیں برپا ہوئیں۔ایک علی گڑھ اور دوسرا دیوبند۔ دو تحریکوں نے دو الگ نظام تعلیم بنائے  جو ملک کے طول و عرض میں مختلف ناموں سے پھیلتے گئے۔۔علی گڑھ کالج اور علی گڑھ کی تحریک کا  بنیادی مقصد مسلم نوجوانوں  کے لئے انگریزی حکومت کی نوکری تھی، اس نظام نے مسلمانوں کو انگریزی غلامی میں پختہ کر دیا، اس کوشروع کرنے والے سید احمد کو  انگریزوں کی طرف  سے علمی  اور پہلوانی دونوں خطاب”سر“ اور  ”خان“  کے مل چکے تھے۔ ان کا ننھیال کئی پشت سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت کر رہا تھا۔ علاوہ ازیں  1857کی جنگ آزادی میں انھوں نے اپنی جان پر کھیل کر بہت سے انگریزوں کی جان بچائی تھی۔دوسری طرف دیوبند تحریک کا بنیادی مقصد اسلاف کے چھوڑے ہوئے تمام علمی سرمایہ کا تحفظ تھا۔

دوسری جنگ عظیم کے عظیم معاشی نقصان کے بعد برطانیہ نے امریکا سے مالی امداد لے کر اپنی کالونیاں امریکا کے لئے چھوڑ دیں۔ انگریز نے ہندوستان کو دو حصوں میں اس طرح سے تقسیم کیا کہ دونوں میں مستقل تنازع ہو اور جنگ اور صلح دونوں کے لئے ان کی طرف رجوع کریں۔بھارت کو کانگریس پارٹی اور پاکستان کو عملاً  (مسلم لیگ کو نہیں بلکہ)  وردی پارٹی  اور بیوروکریسی  کے حوالے کیا گیا۔کیونکہ ان دو گروہوں نے برطانوی ہند میں انگریزوں کی خدمت کا کوئی دقیقہ فروگزاشت نہیں کیا تھا۔ان کے نزدیک یہی لو گ ثابت شدہ اور تسلیم شدہ وفادار تھے۔دونوں طرف کی حکومتوں کا ایک ایجنڈا رہا ہے کہ اپنے اپنے خطہ میں اسلام کا راستہ روکا جائے۔

آزادی اور تقسیم ہند کے بعد پاکستان کے اصل مقتدر قوتوں کا ایک ہی ہدف ہے اور وہ ہے؛ سدِ اسلام۔آزاد پاکستان میں بھی انگریزوں کی تعلیمی پالیسی ویسی ہی چلتی رہی اور مدرسہ کا نظام اسی طرح مسجد سے مربوط ہو کر عوامی چندوں سے چلتا رہا۔پہلا نظام تو مزید خراب سے خراب تر ہوا۔اب بھی عوام کو جاہل رکھنا  اور تعلیم کومخصوص امیر طبقہ تک محدود رکھنا ہی ہماری قومی تعلیمی پالیسی ہے۔ اب تک ملک کی وزارت تعلیم  پڑھے لکھے لیکن  سب سے جاہل کے ہاتھ میں رہی ہے۔علماء نے بھی اپنے تعلیمی نظام میں کوئی خاطر خواہ تبدیلی نہیں کی۔ تاہم معیار میں وہ سرکاری اسکولوں سے کہیں بہتر ہیں۔ ان میں کم ہی صحیح لیکن بعض خوشگوار تبدیلیاں آئی ہیں۔

 جب سویت یونین نے 1979 میں افغانستان پر قبضہ کر لیا تو  جہاد کے لئے شروع میں کابل یونیورسٹی کے چند طلباء آگے آئے لیکن بعدازاں ان میں علماء بھی شامل ہوتے گئے۔ افغانستان سے سویت یونین کے انخلاء کے بعد جب مجاہدین کے مابین تنازعہ کھڑا ہوا تو پاکستان کے مدارس میں زیر تعلیم اور بعض فارغ التحصیل افغانی طلباء نے  نمایاں کردار ادا کیا جنھیں ہم طالبان کے نام سے جانتے ہیں۔ دینی علوم کے طلباء یعنی طالبان نے 1996  میں اسلامی حکومت ”افغانستان اسلامی امارات“ قائم کی۔ جس پر   2001میں نائن الیون کے بعد اکتوبر میں امریکا نے بھاری فضائی بمباری کی اور طالبان کو کابل چھوڑ کر پہاڑوں پر چڑھنے پر مجبور کر دیا۔چالیس سے زیادہ ممالک امریکا کی فوجی سرپرستی میں کابل میں ایک امریکی تابع حکومت کے ساتھ بیٹھ گئے۔ طالبان نے اٹھارہ سال تک ان سے جنگ کی اور بالآخراس متحدہ فوج کو شکست دے دی۔اب صرف امریکا کے  چند ہزار فوجی  باقی رہ گئے ہیں۔ ان میں سے روز اوسطاً اکیس خود کشی کر رہے ہیں۔افغانستان امریکا کا رستہ ہو ا ناسور ہے۔قطر کے شہر دوحہ میں طالبان کے امن مذاکرات براہ راست امریکا سے ہو رہے ہیں۔ امن روڈ میپ پر دستخط ہو چکے ہیں۔ طالبان کی پہلی شرط افغانستان سے امریکا کا مکمل انخلاء ہے۔ امکان ہے کہ ستمبر سے قبل امریکا کے تمام فوجی نکل جائیں گے۔ بعد از امریکی قبضہ افغانستان میں جو امریکی سیٹ اپ ہے جس میں امریکا  اپنی تابع حکومت او ر نئے مغربی نصاب کے ساتھ قائم کردہ نئے اسکولوں کا تحفظ چاہتا ہے۔اس کے لئے اسے پاکستان کی مدد چاہیے۔ پاکستان اور امریکا  کے حالیہ مذاکرات اسی سلسلے کی کڑی تھی۔علماء اور منتظمین مدارس کو چاہئے کہ سب سے پہلے وہ  اپنے وزیر اعظم  اور سپہ سالار سے آئی ایم ایف اور امریکا کی امدادی شرائط پوچھیں۔مولانا طارق جمیل کے تو عمران خان سے خصوصی مراسم ہیں وہی پوچھ لیں۔امریکا کی ایک ہی خواہش ہے کہ مدارس بند ہوں یا ان کا حلیہ بگاڑ دیا جائے کیونکہ یہ مدارس حریت پسند مجاہد پیدا کرنے کی صلاحیت رکھنے لگے ہیں۔میرے خیال میں امریکا کی احکامات کی لسٹ میں یہی سر فہرست ہے۔

امریکا میں مذاکرات کے بعد جو وزارت اور جو شعبہ سب سے زیادہ متحرک  ہوا ہے وہ تعلیم کی وزارت اور تعلیم کے شعبے ہیں۔وزارت تعلیم ”ایک قوم، ایک تعلیم“  اور دینی  مدارس کے رجسٹریشن کی بات پورے زور و شور سے کر رہی ہے۔ یہ وہی قرارداد ہے جو ہندوستانی قوم کے لئے انگریزگورنر جنرل لارڈ ولیم بنیٹنک نے1835  میں پیش کی تھی۔ پاکستان میں علماء اور مدارس براہ راست نشانے پر آچکے ہیں۔مولانا فضل الرحمان کی کوئٹہ ملین مارچ کی تقریر میں ان خدشات کا اظہار ہے۔لیکن ان کی سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ وہ  سیکولر اور لبرل جماعتوں سے مل کر یہ جنگ جیت سکتے ہیں۔میرا خیال ہے کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتیں اور تمام ادارے علماء اور مدارس کے خلاف ایک ورق پر آجائیں گے اور سب آپس میں ایک دوسرے کے گناہ دھو دیں گے۔ ابھی ان کے درمیان جو جنگ ہے وہ ایک نورا کشتی ہے،  وہ لوگ آپس میں مک مکا کر لیں گے۔بعد میں علماء تنہا کھڑے ہوں گے۔مولانا فضل الرحمان کسی سیاسی جماعت کو برسر اقتدار لا کر اور ان میں شامل ہو کر خود کو اور اس کاز کو تباہ کریں گے۔ دین اسلام کی یہ جنگ اب جمہوریت کے میدان میں اور بیلٹ بکسوں سے نہیں جیتی جا سکے گی۔ اس کے لئے علماء کا کامل اتحاد چاہیے۔ علماء کے اتحاد سے ہی عوام کا اتحاد بن سکتا ہے۔علماء کھڑے ہو گئے تو عوام کھڑے ہو جائیں گے۔ اور جب عوام کھڑے ہوں گے تو پرامن انقلاب کی راہ نکل سکتی ہے۔ جدید زمانہ میں ایران کا انقلاب وہاں کے علماء کی اچھی، موثر، اور بہترین حکمت عملی کا نتیجہ ہے۔ پاکستانی علماء کے لئے ایران کے انقلاب کی حکمت عملی (strategy) میں کامیابی کا سبق موجود ہے

jawed@seerahwest.com

Facebook.com/AsseerahUrdu/

Your Comment