و رفعنا لک ذکرک محمدﷺ

April 19,2019, ,Weather : °

Fajr:, Dhuhr:, Asr:, Maghrib:, Isha:

ووٹ کس کو دیں اور کیوں دیں؟

19 Jul 2018
ووٹ کس کو دیں اور کیوں دیں؟

سید جاوید انور

آج میں پاکستان میں کسی خاص جماعت، یا خاص کسی امیدوار کو ووٹ دینے کی اپیل کی خاطر یہ کالم نہیں لکھ رہا ہوں۔ بلکہ درست امیدوار معلوم کرنے اور ووٹ کی امانت کو امانت دار کے حوالے کرنے کی ایک آسان سی ترکیب بتاتا ہوں۔ آپ پاکستان کے کسی بھی حلقہ انتخاب میں رہتے ہوں، اپنے علاقے کے تمام امیدواروں کی فہرست بنا لیں۔ اب آپ یہ تصور کریں کہ یہ تمام امیدوار آپ کی مقامی مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے جمع ہیں۔ اس میں ہو سکتا ہے کہ کوئی شخص نماز نہ پڑھتا ہو تو اس کو پہلے ہی اس لسٹ سے نکال دیں کیوں کہ وہ دستوری طور پر بھی نااہل ہے۔ اب جتنے نمازی ’’امیدوار انتخاب‘‘ مسجد میں جمع ہو گئے ہیں، آپ ان میں سے ایک کو امامت کے لیے چن لیں۔ آپ جس امیدوار کو امامت کے لیے چنیں گے، ٹھیک وہی شخص آپ کے ووٹ کا حقدار ہے۔ نماز میں نمازی اللہ سے بات کرتا ہے۔ امام تمام نمازیوں کی طرف سے اللہ سے گفتگو کرتا ہے۔ اب یہ کیسے ممکن ہوتا ہے کہ آپ مسجد میں اللہ سے بات کرنے والے کو امام بناتے ہیں لیکن مسجد سے باہر نکلتے ہی شیطان سے بات کرنے والوں کو امام بنا دیتے ہیں۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی کا یہی وہ تضاد ہے جس سے ہماری معاشرتی اور سیاسی زندگی بگڑ کر رہ گئی اور تعلیم، اخلاق، تہذیب اور معیشت میں شیطان در آیا۔

اس بات پر علماء امت کا اجتہاد ہے کہ ووٹ ایک امانت ہے اور نااہل کو ووٹ دینا امانت میں خیانت ہے۔ اور اہلیت نام ہے؛ تقویٰ، صداقت اور عدالت کا۔ ان تین معیار پر جو پورا اترے گا وہ آپ کے ووٹ کا اہل ہے۔ نااہل کو ووٹ دینا، امانت میں خیانت ہے۔ امانت کی پاسداری نہ کرنا گناہ کبیرہ ہے۔ اور یہ آخرت میں پرسش کا ایشو ہے۔ یہ ایک انتہائی سنجیدہ موضوع ہے جو بدقسمتی سے انتہائی غیر سنجیدہ مشغلہ بن کر رہ گیا ہے۔ تعجب ہے کہ بعض اسلام پسند بھی جن کی تعداد میں اب اضافہ ہو رہا ہے وہ اپنے تئیں ممکنہ قابل انتخاب کا اندازہ لگا کر کم تر برائی کے حق میں ووٹ دے دیتے ہیں، یا اس پورے پروسس سے الگ ہو جاتے ہیں، کیوں کہ ان کے نزدیک اہل حق کے جیتنے کا کوئی چانس نہیں ہوتا ہے۔ اگر یہی رویہ انبیاؑ کے ساتھ رکھا جاتا کہ حق کی حمایت کا فیصلہ حق کی کامیابی کے امکان پر ہوتا تو کسی ایک نبیؑ کا مشن ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھ پاتا۔ آخرت کا سوال اور وہاں کی کامیابی امانت اور حق کی ادائیگی پر ہے نہ کہ کسی کی جیت یا ہار پر۔

پاکستان کا اصل مسئلہ ’’غلامی‘‘ ہے، اور تعلیمی اور معاشی نظام میں انقلابی تبدیلی کے بغیر اس غلامی سے نجات نا ممکن ہے۔ کوئی کیسا بھی نعرہ لگا لے، کیسا بھی وعدہ کرے، یہ تبدیلی، یہ انقلاب، خداخوفی، اور اللہ کی غلامی کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ پاکستان میں جس سول اور ملٹری بیوروکریسی اور اس کے پروردہ سیاست دانوں نے گزشتہ 70 سال حکومت کی ہے وہ برطانوی سامراج کی وارث ہے۔ یہ مختلف نام ہیں، مختلف روپ ہیں۔ لیکن یہ ایک ہی جماعت ہے۔ یہ لبرلزم، سیکولرزم اور قومیتوں کی پرچارک جماعت ہے۔ یہ مادہ پرست، کرپٹ، اور اخلاق باختہ لوگوں کی جماعت ہے۔ یہ پاکستان کے ناسور ہیں۔ اور ہر آنے والا دن وطن عزیز کی ناسوریت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ پاکستانیوں کے پاس اس وقت انتخاب کے سوا کوئی ممکن راستہ تبدیلی کا نہیں ہے۔ اگر اس موقع پر پروپیگنڈے کا شکار ہو کر، یا اپنی اخلاقی کمزوری کے باعث ہم پھر انہیں عناصر کو ووٹ ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ گٹر سے خوشبو برآمد نہیں ہوتی ہے، بے کردار لوگ انصاف کا ترازو نہیں تھام سکتے اور غیر ہدایت یافتہ کے پاس روشنی نہیں ہوتی ہے۔

اس انتخاب میں آئندہ پانچ سال کے لیے جو سیٹ اپ بنے گا، اس کا ’’تیر‘‘ اور ’’تلوار‘‘ آپ کو زخمی کرے گا، اس کی ’’پتنگ‘‘ کی ڈور آپ کی گردن کاٹے گی، اس کا ’’شیر‘‘ آپ کو نگلے گا۔ اس کے ’’لوٹے‘‘ پانی کی قلت پیدا کریں گے، اس کی ’’جیپ‘‘ والے گھوڑے بکیں گے یا ’’فرشتوں‘‘ کی سواری بنیں گے۔ اور اس کا ’’بلا‘‘ اپنا ہی وکٹ اڑائے گا۔ اگر اس بار پاکستان کے ووٹرز نے ’’کتاب‘‘ سے ہدایت لے لی، تو شب قدر میں قائم ہونے والا پاکستان اپنی معنویت کو بحال کر لے گا اور اس کے معراج کا سفر شروع ہو جائے گا۔

jawed@seerahwest.com

 

Your Comment