و رفعنا لک ذکرک محمدﷺ

October 15,2019, ,Weather : °

مولانا سمیع الحق کی شہادت: فلاحی ریاست کی ضرورت

12 Nov 2018
مولانا سمیع الحق کی شہادت: فلاحی ریاست کی ضرورت

 November 13, 2019 اشاعت اول جسارت۔ 

سید جاوید انور

بنگلا دیش کی حسینہ واجد نے گزشتہ انتخاب کے دوران مدینہ کی فلاحی ریاست کے قیام کی بات کی تھی۔ عمران خاں کی تقاریر میں بھی مدینہ کی فلاحی ریاست کے قیام کی بات ہے۔ دونوں نے ’’فلاحی ریاست‘‘ کی بات کی لیکن ’’اسلام‘‘ دونوں کی تقریر سے غائب تھا۔ حسینہ واجد نے آتے ہی ’’فلاحی ریاست‘‘ کی سب سے بڑی ’’رکاوٹ‘‘ علماء کرام اور اسلامی قیادت کو شہید کرنے کا بیڑہ اٹھایا۔ جماعت اسلامی بنگلا دیش کی پوری قیادت پھانسی پر چڑھا دی گئی۔ وہاں فوج، میڈیا، اور حکومت ایک ساتھ کھڑے تھے۔ بنگلا دیش کا میڈیا شہداء کے خون پر ڈھول اور طبلہ بجاتا رہا۔ پاکستان میں بھی علماء کا قتل شروع ہوچکا ہے۔ مولانا سمیع الحق کا قتل ناموس رسالت پر نہ پہلا قتل ہے اور نہ آخری۔ امکان یہی ہے کہ یہ سلسلہ دراز ہوتا چلا جائے گا۔ اسلام کے بغیر ’’فلاحی ریاست‘‘ کا جو تصور ہے اس میں علماء کا کوئی کردار نہیں ہے۔ کیوں کہ مغرب کی فلاحی ریاست میں اللہ اور اس کے رسولؐ کا کوئی کام نہیں ہے، اس ریا ست میں انسانی خواہشات کی پرستش ہوتی ہے۔ وہاں بولنے کی نہیں بلکہ بکنے اور بکواسنے کی آزادی ہوتی ہے۔ کینیڈا بھی ایک فلاحی ریاست ہے یہاں اگر کوئی مرد مونچھ اور ڈاڑھی کے ساتھ جس وقت یہ اعلان کر دے کہ وہ مرد نہیں عورت ہے اسی وقت سے اسے عورت تسلیم کیا جاتا ہے۔ یعنی وہ اب عورتوں کے واش روم اور چینج روم میں جانے کا حق دار ہے۔ اور اب اس کی خواہش کے مطابق اس کے لیے ضمیر چنا جائے گا۔ یعنی اگر وہ یہ چاہتا ہے کہ اسے ’’مس‘‘ لکھا جائے تو قانوناً ہر سرکاری یا نجی ادارہ مجبور ہے کہ وہ اس کے نام کے شروع میں ’’مس‘‘ لکھے۔ ریاست اونٹاریو میں اب پیدا ہونے والے کے پیدائشی سرٹیفیکٹ میں ’’لڑکا‘‘ یا ’’لڑکی‘‘ نہیں لکھا جاتا ہے کیوں کہ یہ اس بچے کے ’’بنیادی حقوق‘‘ کی خلاف ورزی ہے۔ کیوں کہ ہو سکتا ہے کہ وہ بڑا ہو کر آپ کے یا خدا کی دی ہوئی جنس کو قبول نہ کرے اور کوئی اور صنف اختیار کرے۔ اور قانوناً یہاں اب حیاتیاتی جنس ہے ہی نہیں۔ جنس قوس قزح کی طرح سات رنگوں میں ہے اور اس میں کوئی بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

یہاں اب کوئی امام، عالم یا کوئی اسلامی رہنما اگر قولی نہی عنی المنکر کرے گا تو اس کے ادارے کا چیریٹی اسیٹٹس چھن لیا جائے گا۔ اور اکثریت (تقریباً سب) نے امر بالمعروف اور نہی عنی المنکر کے فریضہ سے دستبردار ہو کر اپنی چیریٹی کو ہی چاٹا ہے۔ فلاحی ریاست نماز، روزہ حج اور زکوۃٰ کی ذاتی آزادی دیتا ہے۔ لیکن پبلک لائف میں کیا صحیح ہے کیا غلط، کیا حلال ہے کیا حرام، اس کو بتانے کا حق آپ کو اپنی فیملی میں بھی نہیں ہے۔ تعلیمی ادارے فلاحی ریاست کے بچوں کو ’’آزاد فکری‘‘ کی تعلیم و تربیت سے پختہ کر دیں گے۔ کینیڈا میں ایک سے بڑھ کر ایک عالم، اسلامیات میں پی ایچ ڈی اور اقلیتی فقہ کے ماہرین بیٹھے ہیں۔ روز حشر ’’مجبوری‘‘ کے حوالہ سے ان کے کیا دلائل ہوں گے، اور اللہ کے سامنے کس انداز سے گفتگو رکھیں گے یہ تو بعد از قیامت ہی پتا چلا جائے گا۔ لیکن میں علماء پاکستان کو یہ خبر دینا چاہتا ہوں کہ یہ ’’فلاحی ریاست‘‘ آپ کے یہاں پہنچ چکا ہے۔
آپ جتنی جلد اس بات کو سمجھ لیں آپ سب اور پاکستان کے حق میں بہتر ہے۔ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا ملعونہ آسیہ کو رہا کرنا تعجب خیز نہیں ہے۔ اس سے قبل آبادی کنٹرول کرنے (فیملی پلاننگ) اور ہیجڑہ کمیونٹی کے پس منظر میں مغرب کے ہم جنس پرستی کے بنیادی حقوق کو سامنے رکھ کر جو فیصلے وہ شخص لکھ چکا ہے، اس کا مطالعہ کر لیا جائے۔ ثاقب نثار امریکا، کینیڈا، برطانیہ اور بھارت کے سپریم کورٹوں کے کسی بھی جج سے ذرا بھی مختلف نہیں۔ برطانیہ کا دیا ہوا وہی کرمنل لا اور انڈین پینل کوڈ ہے جو پاکستان پینل کوڈ کی شکل میں موجود ہے اور جج اور وکلا وہی ہیں، جس کے بارے میں اکبر الہ آبادی مرحوم بہت پہلے کہ چکے ہیں کہ ’’پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا۔۔۔ لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہوگئے‘‘۔ یہ سب مغرب میں ایجاد ہونے والے تمام نئے ’’بنیادی حقوق‘‘ سے آگاہ ہیں اور اس کے مطابق اپنے قوانین کو ڈھال رہے ہیں۔
تینوں سیکولر اور لبرل پارٹیوں؛ تحریک انصاف، پاکستان پیپلز پارٹی، اور نواز لیگ کی نورا کشتی ختم ہو چکی ہے۔ اب ان میں نہ کوئی جیل جائے گا اور نہ حکومت آئندہ ان کی کرپشن کی بات کرے گی۔ نیب اب طویل نیپ پر جا رہی ہے۔ یہ سب مل کر اب علماء اسلام اور شعائر اسلام کو نشانہ بنائیں گے، کچلیں گے۔ علماء اسلام کی کردار کشی کریں گے۔ ریاست کے تمام ستون، سیکولر جماعتیں، میڈیا کے مکمل تعاون سے ان کے خلاف میدان میں آچکے ہیں۔ امریکا اور مغرب کی ڈکشنری میں ’’دہشت گردی‘‘ کا مطلب ’’اسلام‘‘ ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا مطلب اسلام کے خلاف جنگ ہے۔ اسلام کے لیے کوئی گروہ جہاد کا راستہ اختیار کرے یا جمہوریت کا، جدید ریاست کے نزدیک قابل گردن زدنی ہے۔ الجزائر کی اسلامی جماعت انتخاب کے راستہ سے بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئی تھی، فوج نے اسے حکومت بنانے سے پہلے ہی طاقت سے کچل دیا۔ مصر کی اخوان المسلمون نے کبھی تشدد کا راستہ نہیں اختیار کیا تھا۔ جمہوری طور پر جب وہ منتخب ہو گئی تو فوج کے اندر سے ایک نیا فرعون مصر السیسی نکلا اور اس نے حکومت پر قبضہ کر لیا۔ اور اس کے بعد حالت نماز میں پرامن مظاہرین کو گولی سے بھون کر رکھ دیا۔ سعودی عرب، اسرائیل، اور امریکا تینوں کا السیسی کو بھرپور مالی اور فوجی تعاون حاصل ہے۔
علامہ خادم حسین رضوی نے پرامن احتجاج کی اپیل کی تھی، اور وہ پرامن احتجاج ہی تھا۔ لیکن ایک طرف حکومت کی طرف سے ملک میں مختلف مقامات پر غنڈے سرکاری سرپرستی میں تشدد کی کارروائی کرتے رہے، اور دوسری طرف پرامن مظاہرین اور ان کی قیادت کو بھون کر ٹھکانے لگانے کی کھلم کھلا دھمکی دی گئی۔ یہ سلسلہ، یہ ریاستی تشدد کا ڈراما، کوئی نیا نہیں ہے۔ پہلے ادوار میں بھی تقریباً تمام دینی جماعتیں اس کا شکار ہو چکی ہیں۔ جماعت اسلامی اور اس کی قیادتوں نے بارہا اس کا تجربہ کیا ہے۔ عمران خاں نے پہلے ہی دن جب کہ ابھی تک آسیہ کی رہائی کی خبر عام بھی نہیں ہوئی تھی پاکستان ٹیلی ویژن سے وہ خطاب کیا جو ماضی کے آمر حکمران بالکل آخر میں جب حالات قابو میں نہیں ہوتے تھے کیا کرتے تھے۔ انہوں نے پہلے ہی دن مظاہرہ شروع ہونے سے بھی قبل ’’چھوٹے‘‘ اور ’’مٹھی بھر‘‘ لوگوں کو کچل دینے کی گرج لگائی۔ یہ تقریر عوامی غصہ اور تشدد کو بھڑکانے والی تقریر تھی۔
ماضی قریب کی دنیا کی سیاسی تاریخ کی روشنی میں میں یہ بات یقین سے کہ سکتا ہوں کہ آپ جمہوری ہوں، غیر جمہوری ہوں، سیاسی ہوں یا غیر سیاسی ہوں، ریاست میں اسلام کے عمل دخل کی بات کریں گے، مارے جائیں گے۔ ہر مرنے والا شہادت کو پا لے گا لیکن ہر پاکستانی پر شہداء کے خون کا بدلہ واجب ہے۔ مجھے یقین ہے کہ مولانا سمیع الحق کے صاحب زادے پر ان کے والد کے قاتلین کے حوالے سے رخ موڑنے کا بھرپور دباؤ ہوگا۔ مولانا سمیع الحق نے اپنے قاتلین کی طرف
اشارہ اپنے آخری عوامی اجتماع میں کر دیا ہے۔ ریاست کے ادارے اپنے کرائے کے قاتلین کو سامنے نہیں لاتے، بلکہ اس کی ذمے داری کا تانا بانا دور تک اور نہ پہنچنے والے ہاتھ تک پہنچا کر کے اس پر مٹی ڈال دیتے ہیں۔ جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن جیسے جنرلوں کے قاتلوں پر جب ریاست نے پردہ ڈال دیا ہے تو علماء کرام کی تو ان کے یہاں کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔
پبلک میڈیا پر مکمل قابو پاکر اب عمرانی حکومت سوشل میڈیا پر بھی مکمل کنٹرول چاہتی ہے۔ کنٹرول تو بہت پہلے سے ہے، ڈونلڈ ٹرمپ اور عمران خاں میں کم از کم ایک چیز یکساں ہے وہ یہ کہ انتخابات کی کامیابی کی اہم وجہ سوشل میڈیا کا پروپیگنڈا اور شخصیت نمائی ہے۔ اب وہ حکومت میں آنے کے بعد اپنے تمام مخالفین کا سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کر دینا چاہتے ہیں۔
اب ان کے مخالفین اور اسلام کے حامیان کے پاس چیخنے چلانے کے لیے سوشل میڈیا بھی باقی نہیں رہے گا۔ خادم حسین رضوی جن کے فالو ورز (followers) کی تعداد دنیا کے تمام اسلامی رہنما کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے، ان کا پندرہ لاکھ سے زیادہ حمایتیوں والا فیس بک اور ٹویٹر اکاؤنٹ دونوں بند کر دیا گیا ہے۔ اور اب یوں جمہوریت کا یہ نیا عمرانی شہزادہ ماضی کے تمام آمروں کو پیچھا چھوڑتا نظر آتا ہے۔
علماء اور ان کے ساتھیوں کے لیے کرنے کا پہلا کام یہ ہے کہ آپس کے تمام فروعی اختلاف چھوڑ کر متحد ہو کر سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔ کیوں کہ پہلا وار حکومت کی طرف سے ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کا ہوگا۔ اللہ کا شکر ہے کہ اس معاملہ میں پاکستان کی صورت حال اچھی ہے جب ایک سلفی عالم بھی حرمت رسول ؐ کے اشو پر جب بریلوی خادم رضوی کی حمایت کرتا ہوا نظرآتا ہے، تو تبدیلی محسوس ہوتی ہے۔ دوسرا اہم کام میڈیا پرسن اور اس کے پروپیگنڈے کی کاٹ اور اقدامی جواب ہے۔ موجودہ حالات میں جسارت اور امت جیسے اخبارات کی اہمیت بہت بڑھ جائے گی۔ اور آخری اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اب علماء ’’مطالبات‘‘ کی سیاست، اور حکومتی اور سرکاری تمام مراعات چھوڑ کر عملاً براہ راست اسلامی حکومت (خلافت) کے قیام کی جدوجہد میں لگ جائیں۔ اس ملک کے تمام قوانین کو دستور پاکستان کے مقاصد کے مطابق بدلا جائے اور مغربی نظام عدالت، قوانین تعزیرات اور تعلیمی اور معاشی نظام کو ۔مکمل طور پر دستور سے ہم آہنگ کیا جائے۔ المختصر پاکستان اس وقت ایک مسلم ریاست ہے، اسے اسلامی ریاست بنایا جائے۔ شاخوں کی بحث چھوڑ کر جڑ کی بات کی جائے۔

jawed@seerahwest.com

 

Follow our Facebook Urdu Page

https://www.facebook.com/AsseerahUrdu/

Your Comment