و رفعنا لک ذکرک محمدﷺ

September 20,2019, ,Weather : Ashburn23°

مدارس، علماء، اور مسلم عوام پر ریاستی جارحیت

19 Aug 2019
مدارس، علماء، اور مسلم عوام پر ریاستی جارحیت

 

سیدجاوید انور

مدارس اور علماء اور مسلم عوام آج کے ”نئے پاکستان“ میں با لخصوص نشانے پر ہیں۔ علماء کے قتل اور ان پر قاتلانہ حملوں کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔مولوی سمیع الحق کا قتل  اور مولانا تقی عثمانی پر قاتلانہ حملہ اسی سلسلہ کی کڑیاں ہیں۔مولوی سمیع الحق مدارس کے حوالے سے سب سے بڑا نام تھے اور مولانا تقی عثمانی علماء کے صف سے سب سے بڑا نام ہیں۔

قیام پاکستان کے بعد نجی شعبہ میں اسلامی نظام تعلیم اور اس کے لئے قائم کردہ مدارس اور اسکول پر جارحیت کا آغاز سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو (ف:1979)کے دور سے شروع  ہوا۔ اس وقت تک نجی طور پر اور اسلامی جماعتوں کے ذریعہ قائم شدہ مدارس اور اسکول تھوڑے بہت نظریاتی برگ و بار لانا شروع کر چکے تھے۔ چنانچہ ریاست کے لئے یہ ناقابل برداشت تھے۔بھٹو نے ایسے تمام اسکولوں کو قومیا لیا اور برباد کر دیا۔سب سے زیادہ نقصان جماعت اسلامی کو ہوا کہ ان کے اسکولوں کی تعداد غالباً زیادہ تھی اور یہ کہ بھٹو کا اصل ہدف بھی جماعت اسلامی تھی۔ کیونکہ یہ جماعت، اسلامی نظام کے ذریعہ زندگی کے تمام شعبہ حیات خصوصاً حکومت اور ریاست کو اسلام کے مطابق ڈھالنا چاہتی تھی اور اقامت دین کی داعی تھی۔ اور اسی کام کے لئے افراد کار تیار کرنا چاہتی تھی۔ مسجد سے منسلک مدارس اس وقت تک سیاستدانوں، حکومتوں، ریاستی اداروں اور ان کے پشت پر بیٹھے سامراج  کے لئے بے ضر رتھے۔کیونکہ ان کا رول مسجد سے مدرسہ تک، عقیقہ سے جنازہ تک اور فاتحہ سے درود تک محدود سمجھا جاتا تھا۔ چنانچہ بھٹو نے مسجد سے جڑے مدارس کو نہیں چھیڑا تھا۔

افغانستان میں سویت یونین کی ننگی جارحیت اور قبضہ (1979)کے بعد تحاریک اسلامی کے نوجوان افغان جہاد میں شامل ہوئے۔ سویت یونین کے انخلاء (1989)کے بعد جب امریکا نے یہ طے کر لیا کہ فاتح اور پراعتماد مجاہدین کو اقتدار نہیں دینا ہے کیونکہ وہ  اسلام کے عالمی اثرات  کے محرک بن سکتے ہیں۔تو مدارس کے طلباء کو اس لئے کھڑا کیا گیا کہ سامراج کے نزدیک  وہ بے ضرر تھے۔ ان کا تصور اسلام محدود اور مقامی تھا۔طالبان کو اقتدار تک لانے میں امریکا، سعودی عربیہ، اور پاکستان کی مثلث(triangle) کام آیا۔ پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے طالبان برسر اقتدار آگئے(1996)۔ اس حکومت کو سفارتی طور پر صرف پاکستان،  سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے قبول کیا۔ان کے وسائل کی تنگی کو دور کرنے کے لئے دینی گروہ اور عالمی تحاریک اسلامی متوجہ ہوئیں اور طالبان نے ریاست کو چلانے کے لئے اسی طرز کا چندہ کا نظام قائم کیا جس طرح مدارس کو چلانے کے لئے قائم کیا جاتا تھا۔امریکا اور مغرب یہ سمجھتا تھا کہ وہ طالبان کو ذاتی معاملات میں شریعت کی آزادی دے کر اجتماعی معاملات میں مغرب کے عقیدہ آزادی، جمہوریت، اور ترقی پر قائل اور قائم کر دے گا۔اور وسط ایشیا تک کے امریکی معاشی مفادات کا  تحفظ  فراہم کرے گا۔لیکن یہ ”مولوی“ ان کے لئے اور زیادہ مشکل لوہے کے چنے  ثابت ہوئے۔انھیں معلوم ہوا کہ ان کا عقیدہ آزادی کے بجائے  عبدیت،  جمہوریت کے بجائے  شریعت  اور ترقی کی بجائے آخرت ہے۔نہ  ان کو تبدیل کیا جا سکتا ہے اورنہ  ان کے ذریعہ امریکی مفادات آگے بڑھ سکتے ہیں۔چنانچہ ایک بار پھر طالبان کو ہٹانے  کے لئے پاکستانی فوجی مقتدرہ کو ہی استعمال کئے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

افغانستان میں طالبان اور عراق میں صدام حسین کو ہٹانے کے لئے نائن الیون کا پردہئ  دود (smokescreen)  تیار ہوا۔ ادھرپاکستانی  فوج کے پرویز مشرف کو امریکا نیچے سے اوپر لانے کے لئے  بہت پہلے سے کوشاں تھا۔اس نے اپنے اس خاص شخص کو بے نظیر بھٹو کے بہت قریب کر دیا تھا۔ جب کہ شروع میں وہ انھیں نا پسند کرتی تھیں۔ مولانا فضل الرحمٰن کی لابنگ کے نتیجے میں بے نظیر بھٹو نے انھیں دو ستارہ میجر جنرل بنایا۔ان کے ذریعہ  1993 میں پرویز مشرف نے واشنگٹن ڈی سی کے پاکستانی سفارت خانہ میں بے نظیر بھٹو کی ملاقات اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے افسران اور اسرائیلی وزیر اعظم اسحٰق رابن کے ایک نمائندہ سے کرائی تھی۔ 1993 سے 1995 تک مشرف نے بے نظیر بھٹو کے ساتھ امریکاکا متعدد دورہ کیا  (انسائکلو پیڈیاوکی پیڈیا)۔

 اس کے بعد امریکی لابی کے دباوُ میں نواز شریف کے ذریعہ ہی وہ چار ستاروں والے جنرل بن گئے اور نواز شریف نے ہی جنرل جہانگیر کرامت کی ریٹائرمنٹ کے بعد انھیں تین رینک نیچے سے اٹھا کر اکتوبر1998 میں چیف آف آرمی اسٹاف بنا یا۔انھیں مزید اوپر لانے کے لئے، 1999 مارچ تا مئی کارگل، کشمیر کا ”عبوری فاتح“  بنایا گیا۔اکتوبر 1999میں ہی  فوجی بغاوت اور آئین کو معطل کر کے دو تہائی اکثریت رکھنے والی جمہوری پارلیمانی حکومت (نواز شریف کی مسلم لیگ ن)کا خاتمہ کیا گیا، اور جنرل پرویز مشرف، پاکستان کو کارپوریشن  رجسٹڑڈ“ کر کے اس کے چیف ایگزیکیٹو بن گئے۔نائن الیون 2001 سے صرف دو سال قبل پاکستان میں امریکا کے خاص الخاص پرویز مشرف پاکستان کے سیاہ و سفید کے مالک ہو چکے تھے۔جنرل پرویز مشرف کو اسلام، علماء اور مدارس سے نفرت تھی۔پہلی تصویر ان کی ایک کتے کے ساتھ آئی اور انھوں نے اپنا آئیڈیل ہیرو  ترکی کا  سیکولر قوم پرست کمال اتا ترک کو قرار دیا تھا۔ ظاہر ہے کہ انھوں نے یہ نام ارادتاً پورے شعور کے ساتھ لیا تھا کیونکہ اتاترک کی پہچان بھی یہی تھی کہ وہ اسلام، اس کے شعائر اور اس کی تمام روایات کا سخت دشمن تھا۔  جنرل مشرف نے اپنے اس منصب کو اسی مقصد کے لئے بھرپور طور پر نبھایا۔ملک کو سیکولرائزیشن کی طرف تیزی سے لے کر جانے لگا۔پاکستان کے روایتی معاشرہ کو لبرلزم کی  تیز دوڑ دوڑائی گئی اور آج کے پاکستانی معاشرہ پر اس کے بھرپور اثرات ہیں۔ اس سے قبل یہ کام ایم کیو ایم کراچی کی سطح پر کر چکی تھی۔یہی وہ معاشرہ  اور ”نیا پاکستان“ہے جس کا بھرپور فائدہ عمران خاں کو ملا ہے۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں عمران خاں کو ان کے حریف کا رول دیا گیا تھا۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو اپنے ہاتھ میں رکھنا سامراج کے آزمودہ اور کامیاب سیاسی طریقے ہیں۔ عمران خاں ہی جنرل پرویز مشرف کے اصل جانشیں ہیں۔دونوں امریکا میں بہت مقبول ہیں۔امریکا  کے اس انتہائی پسندیدہ شخص یعنی جنرل مشرف جس کو کارگل کے پہاڑوں پر چڑھا کر اور اتار کر پہلے ہی ہیرو بنایا جا چکاتھا۔نائن الیون کا حادثۃ کرا کر جب  مدارس کے طلباء طالبان کی حکومت پر بمباری کا امریکی اور اتحادی فیصلہ ہو گیا تو جنرل مشرف نے پاکستان کے تمام زمینی، فضائی اور آبی نقل و حرکت کے ذرائع وسائل امریکا کے حوالے کر دئے۔طالبان کابل چھوڑ کر پہاڑوں پر چلے گئے۔ طالبان امریکا سے ابھی تک جنگ میں مصروف ہیں۔پاکستان اس جنگ میں چند سال قبل تک جب تک امریکی امداد جاری تھی، امریکا کا حلیف بن کر ان کے خلاف جنگ لڑ رہا تھا۔

 پاکستان میں طالبان افغانستان کی حمایت میں خصوصاً شمال مغرب سے جو قوت اٹھی، اس کو بذریعہ طاقت روکنا  اب پاکستانی  مقتدرہ کا  اولین ہدف بن گیا۔پاکستان سے سیکڑوں ٹرکوں کے ذریعہ روزانہ افغانستان میں جو فوجی سپلائی لائن جاری تھی اس کو  پاکستان کی طالبان حمایتی قوت اپنے علاقوں سے جب روکتی تھی تو پاکستان کی  فوج پوری قوت سے انھیں کچلتی تھی۔امریکا ڈرون سے ان کے علاقہ میں برسوں بمباری کرتا رہا جسے پاکستانی  مقتدرہ کی مرضی اور حمایت حاصل تھی۔ پاکستان کی وزارت خزانہ  2010-11 میں یہ رپورٹ پیش کرتی ہے کہ 2001   سے اب تک پاکستانی ریاست کا67.93  بلین ڈالر اس امریکی جنگ میں کھپ چکا ہے۔جنرل مشرف نے اپنی کتاب ان  دی لائن آف فائر (In line of fire) میں لکھا ہے کہ اس نے تین ہزار سے زائد عام لوگوں کو پکڑ کر سی آئی اے کو بیچا۔  قوم کی بیٹی عافیہ صدیقی کو اسلام آباد سے پکڑ کر امریکا کے حوالے انہی دنوں کیا گیا۔ اب بھی ہزاروں لاپتہ لوگوں کے وارثین  چیخ رہے ہیں، رو رہے ہیں، پکار رہے ہیں، لیکن پاکستان کا بے حس مقتدرہ اور میڈیا اس آواز کو مکمل دبا چکا ہے۔1947 میں آزادی کے بعد پہلی بارافواج پاکستان خیبر ایجنسی میں داخل ہوئی۔ جس کا واحد مقصد امریکہ اور اس کے زیرِ کمان اتحادیوں کے خلاف اٹھنے والے جذبہ جہاد کو کچلنا تھا۔ 16 جولائی 2004 سے اب تک  30,590پٹھان قتل  کئے جا چکے ہیں۔ (وکی پیڈیاen.wikipedia.org)۔ظاہر ہے کہ ان کی عظیم اکثریت سویلین آبادی کی تھی۔ یہ بھی واضح رہے کہ ان پر کئے جانے والے ہر حملے میں پاکستان فوج کو ہزیمت اٹھانی پڑی ہے۔  علاقائی کمانڈر نیک محمد کے ساتھ اپریل 2004    میں حکومت پاکستان نے امن معاہدہ کیا جو جون 2004  میں امریکا کے میزائیل حملہ سے کمانڈر نیک محمد کی شہادت پر ختم ہو گیا۔دوسری بار سرگودھا میں نیک محمد کے جانشیں بیت اللہ محسود کے ساتھ امن معاہدہ ہوا، لیکن اس کی بھی خلاف ورزی ہوئی، اور تیسرا  امن معاہدہ میران شاہ میں ہوا۔یہ آخری دونوں معاہدوں  کے باوجودمشرف حکومت کے دور میں پاکستان فوج نے یک طرفہ اگست  2007سے ان کا قتل عام شروع کر دیا۔ پچاس لاکھ سے زیادہ لوگ بے گھر ہوگئے۔وہ پٹھان جو متحدہ  ہندوستان میں مسلمانوں کی مدد کے لئے آخری امید ہوتے تھے، وہ پٹھان جنھوں نے کشمیر میں جہاد کے ذریعہ اس کا  ایک حصہ آزاد کر کے پاکستان کو دیا تھا وہی پٹھان امریکی و پاکستانی ریاستی دہشت گردی کا بدترین شکار بنے۔30  اکتوبر   2006کو  باجوڑ میں ایک مدرسہ پر امریکا نے فضائی  حملہ کیا۔ جس میں  80 طلباء شہید ہوئے۔ باجوڑ ایجنسی سے رکن قوم اسمبلی  جماعت اسلامی کے صاحب زادہ  ہارون الرشید نے احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ان کے علاوہ کسی اور سیاسی جماعت ا ور حکومت کے کسی ادارہ  کے کان پر جون نہیں رینگی۔ 2 نومبر  2007کو ایک  ڈرون  حملہ میں جنوبی وزیرستان  کے ایک مدرسہ کے پانچ طلباء شہید ہوئے۔13 جنوری 2010 کو  پاسالکوٹ گاؤں کے ایک مدرسہ پر حملہ ہوا  15 افراد شہید ہوئے۔ ان علاقوں میں کل  430 مصدقہ ڈرون حملہ ہوئے، جس میں متعدد مدارس شامل ہیں، ان ڈرون حملوں میں شہید ہونے والوں کی  تعداد  (سرکاری اعداد و شمار)   4,026  ہے۔جس میں مردوں اور عورتوں کے علاوہ بڑی تعداد میں طلباء اور بچے شامل ہیں۔

ان غریب، یتیم، دینی پٹھان طلباء کی موت کو رونے والا بھی آج کوئی نہیں۔ یہ بھی وا ضح رہے کہ 16 دسمبر 2014  کے دن آرمی پبلک اسکول  پر حملہ ہوا جس میں 139  بچوں سمیت  149  افراد ہلاک ہوئے تھے اس کا ماتمی دن ہر سال بنایا جاتا ہے اور موم بتی جلاکر    (candlelight)   عیسائیوں کی نقالی کی جاتی ہے۔  اس میں پاکستان کے بڑوں کے بچے تھے۔

امریکا نے جس شکل؛ داڑھی، ٹوپی،اور پگڑی کو دہشت گرد کہا، اسی شکل کے بے قصور ہزاروں نوجوانوں اور علماء کو پکڑ کر آئی ایس آئی نے امریکا کے حوالے کیا۔ ان پر ایک عرصہ تک افغانستان کے پل چرخی جیل اور کیوبا کے گوانتنامو بے میں تشدد کیا گیا۔ اسی کے ذریعہ امریکا عالمی دہشت گردی کا  ڈھول بجاتا رہا اور ساری دنیا کی ریا ستوں کو ان کے خلاف کاروائی کرنے پر مجبور کرتا رہا۔امریکا کے ایک ریاستی گاہک  (State client)کی حیثیت سے پاکستان نے اپنی ’ذمہ داری“   حسن خوبی  سے نبھائی ہے۔ اپنے ہی ملک کے باشندوں سے چھیڑی اس جنگ میں پاکستان فوج اور ریاست کو  بھاری نقصان ہوا ہے۔لیکن امریکا کی خدمت کرنے والے تمام جرنلوں کی نوکریاں بعد از ریٹائرمنٹ دنیا بھر میں امریکی قائم کردہ اداروں میں پکی ہیں۔وہ لوگ آج بھاری تنخواہوں میں امریکی مفاداتی اداروں کی خدمت کر رہے ہیں۔

جنرل پرویز مشرف جس پر بے نظیر بھٹو اور اکبر بگٹی کے قتل کا عدالت میں مقدمہ درج ہے،  لال مسجد، اسلام آباد پر فوجی حملہ کے ذریعہ مدرسہ حفصہ کی طالبات کے قتل کا مقدمہ بھی ان پر تھا۔ لیکن پاکستانی مقتدرہ نے ان کانام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکلوا دیا جس کے نتیجے میں وہ ملک سے باہر عیش کی زندگی گزار رہے ہیں۔نئی حکومت جو فوج کے ساتھ ایک ورق پر ہے، اس کا عدلیہ  پر مکمل کنٹرول ہے، جج صاحبان اسٹیبلشمنٹ کی ہدایات پر عمل کر رہے ہیں انھوں نے اس طرح جنرل مشرف کو بچا لیا۔اگر ایک منصف پسند تجزیہ نگار اور تاریخ  نویس جب لکھے گا تو اس کو معلوم ہو جائے گا کہ نیا”عمرانی“ سیٹ اپ  اسی ایک شخص کو بچانے کے خاطر اور سویلین  میں سے سویلین وردی میں فوجی حکومت لانے کے لئے کیا گیا تھا۔

جنرل مشرف کی علماء اور مدرسہ کے خلاف نفرت کابدترین مظاہر اسلام آباد میں لڑکیوں کے مدرسہ حفصہ پر پاکستانی فوج کا 3  جولائی 2007 کوگولیوں کی بوچھاڑ سے حملہ تھا۔مدرسہ حفصہ اسلام آباد کی قدیم ترین مسجد لال مسجد میں قائم تھا۔ ان طالبات کا قصور یہ تھا کہ جب مشرف دور میں ’اسلام“ آباد  میں شراب خانے اور نائٹ کلبز کھلے، ننگی فلموں کے وڈیو گھر ہر جگہ بننے لگے  تو ان  طالبات نے ڈنڈے ہاتھ میں لے کر  اسلام آباد کی سڑکوں پر نہی عنی المنکر کے لئے علامتی پیریڈ کیا تھا۔یہ پریڈ ”روشن پسند“  لبرل جنرل مشرف حکومت کے لئے ناقابل برداشت تھی۔ان دینی طالبات کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔اس مدرسہ کے بانی مولانا محمد عبداللہ کو اکتوبر   1998 میں ہی شہید کیا جا چکا تھا۔موجودہ منتظمین ان کے دو صاحب زادے مولانا  عبد العزیزاور عبدالرشید غازی تھے۔ مولانا عبدالرشید غازی بھی اس حملہ میں شہید ہو گئے۔لال مسجد کے تقدس کو پامال کرنا اور وہاں قتل و غارتگری کا جنرل مشرف کو کس قدر شوق تھا، اور اس کے لئے وہ کتنا اتاولا تھااس کا اندازہ اس بات سے  لگایا جا سکتا ہے کہ جب اس وقت کے وزیر مذہبی امور اعجاز الحق بن جنرل ضیاء الحق کو چودھری شجاعت حسین صدر پاکستان مسلم لیگ (ق) نے مولانا عبد العزیز اور عبد الرشید غازی سے گفت و شنید کے لئے بھیجا  تو یہ لوگ ایک معاہدہ پر پہنچ گئے تھے۔لیکن مسجد سے نکلنے کے بعد جنرل مشرف سے ملتے ہی اعجاز الحق نے اپنا موقف تبدیل کر لیا۔جنرل مشرف کی حکومت، جس میں اس وقت امریکی نمائندہ  اور مشرف نامزدہ سٹی بینک کا ملازم وزیر اعظم شوکت عزیز تھا، انھیں اور فوج کو کہا گیا کہ وہ مولانا عبد العزیزسے پسپائی اختیار کرکے انھیں اپنے آپ کو فوج کے حوالہ کرنے کے لئے کہا جائے۔ مولانا نے گزارش کی کہ اگر حکومت انھیں طالبات سمیت بحفاظت نکلنے کی اجازت دے دے تو وہ بقیہ زندگی خاموشی سے اپنے آبائی علاقہ میں گزار لیں گے، اور لال مسجد حکومت کو اور اپنے  مدرسہ حفصہ اور جامعہ فریدیہ کو وفاق المدارس کے حوالے کر دیں گے۔ یہ معاہدہ انھوں نے علمائے کرام کی موجودگی میں حکومتی نمائندہ شوکت عزیز اور چودھری شجاعت حسین کے ساتھ کیا تھا۔ لیکن آخری لمحہ میں ظالم جنرل مشرف نے تمام معاہدوں اور وعدوں کو ایک طرف رکھ کر مدرسہ اور لال مسجد پر حملہ کا حکم دے دیا۔جنرل مشرف امریکا اور اسرائیل کا ہر دل عزیز تھا، اس نے ان کے یہاں اپنا نمبر اسکور کرنا تھا سو اس نے کر لیا۔

اسلام آباد کی موجودہ حکومت جو مقتدرہ کی وساطت سے ایک  لبرل جسم میں اسلامی زبان لے کر آئی ہے، اس کا اولین ہدف بھی دین  اسلام، علمائے کرام، مدرسہ،  دینی تعلیم اور شعائر اسلام ہی ہے۔سب سے پہلے ملعونہ آسیہ جس کو سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں توہین رسالت کی سزا سنائی جا چکی تھی، اور سپریم کورٹ میں کیس زیر سماعت تھا، فوراً اس کے حق میں فیصلہ کرا کے ملک سے باہر بھیج دیا گیا۔ جب مولانا سمیع الحق ایک عوامی اجتماع میں حکومت اور سپریم کورٹ کے جج پر برسے تو انھیں دوسرے دن ہی ان کے گھر پر چھرے برسا کر ہلاک کر دیا گیا۔ جب  نئی تحریک ”انصاف“ کے ارکان، قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے موقف کی حمایت میں، اور اسرائیل کو قبول کرنے کے حق میں آوازیں نکالنے لگے  تب علماء  اور عوام کو معلوم ہوا کہ ”ایاک نعبد و ایاک نستعین“  والی زبان دراصل کس کی عبادت اور کس سے استعانت کی خواہاں ہے۔ درسی نصاب  اور تعلیمی نظام میں دور رس لبرل تبدیلی لائی جا رہی ہے۔ زبان اور اظہار کی آزادی پر ایسی  قدغن لگی ہے جو اس سے پہلے مشرف کے دور میں بھی نہیں لگی تھی۔حکومت کی اسلام دشمنی پالیسی کو بے نقاب کرنے والے سوشل میڈیا کی ایک کمزورسی آوازبلال خاں کو بھی شہید کر کے خاموش کر دیا گیا ہے۔ بلال خاں نے قتل کی دھمکی دینے والے ادارہ کا اعلان اپنے ویڈیو میں کر دیا تھا۔بلال خاں کو کسی عالمی صحافت، اور میڈیا کی حمایت حاصل نہیں تھی جیسی کہ مین اسٹریم میڈیا والوں کو حاصل ہے۔سود  اور سودی نظام کو ختم کرنے کے لئے  فیصلہ دینے والے اور اس موضوع پر سب سے  توانا آواز جسٹس مولانا تقی عثمانی پر بھی کراچی میں قاتلانہ حملہ ہو چکا ہے۔ وہ اس حملہ میں بال بال بچے ہیں۔ ہوا کا رخ متعین ہو چکا ہے۔ دیکھنے والی آنکھوں نے دیکھ لیا ہے اور محسوس کرنے والے دلوں نے محسوس کر لیا ہے۔

اب حکومت نے ایک مقصد کے تحت پاکستان میں 70 سال کی تعلیم اور تعلیمی نظام میں ناکامی کی ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ اس طرح ”ایک قوم اورا یک تعلیم“ کے خوش نما  نعروں میں پاکستان کے ابتدائی تعلیم کو بھی بیرونی ایجنسیوں کے حوالے کرنے کا پروگرام بن چکا ہے۔ اس کام کے لئے ہمارے مغربی آقا آغا خاں فاوُنڈیشن کو بہت پہلے سے تیار کر رہے ہیں۔اگر ایسا ہوا تو ایک نسل کے بعد ہی پاکستان کے اسکول و مدارس سے اسلام دشمن طلباء اور نوجوانوں کی کھیپ کی کھیپ نکلے گی جن کے سر مغرب کی غلامی اور تابعداری میں ہمیشہ جھکے ہوں گے۔ پاکستان کی قومی تعلیم کے عالمی  فروخت پر اگلے کالم میں لکھوں گا۔

Syed Haque

بلکل صحییح !

Your Comment