و رفعنا لک ذکرک محمدﷺ

October 15,2019, ,Weather : °

محبت کیوں اوراہانت رسول پر غصہ کیوں؟

15 Nov 2018
محبت کیوں اوراہانت رسول پر غصہ کیوں؟

 سید جاوید انور 

اہانت رسول ﷺ کے مقدمے میں سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں اہانت رسولﷺ کی ثابت شدہ مجرمہ کو آناً فاناً سپریم کورٹ سے بری کرنا، اسے نکالنا، پر امن مظاہرے کو پر تشدد بنا نا، مظاہرین کے ایک گروہ سے حکومت کا معاہدہ کرنا، اور احتجاج کے خاتمہ پر حکومت کا معاہدہ کی خلاف ورزی اور مخالفین کو کچل دینے کا عزم کا اعادہ، یہ سب حالات یہ بتاتے ہیں کہ پس منظر میں کوئی مضبوط گروہ یا ادارہ ہے جن کے عالمی رابطے مضبوط ہیں۔ اہانت رسول ﷺ کے مجرموں کو سخت سزا کا قانون اس لئے بنا یا گیا تھا کہ اول تو اس قسم کے واقعات نہ ہوں اور اگر ہوں تو لوگ خود تشدد پر نہ اتر آئیں بلکہ عدالت کے مراحل سے گزار کر اس کی سزا ریاست کی ذمہ ہو۔جس وقت یہ قانون (توہین رسالت کی سزا موت، فروری 1990) بن رہا تھا اس وقت کی وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو سے یہ سوال کیا گیا کہ ایسا قانون کیوں بنایا جا رہا ہے۔ توانھوں نے جواب دیا تھا کہ اگر یہ قانون نہیں ہوگا تو لوگ اہانت رسول کے مجرموں کو خود ہی ٹھکانے لگا دیں گے۔ اگست 1990
میں مرحومہ کی حکومت کو اس وقت کے صدر مرحوم غلام اسحٰق خاں نے ختم کر دیا تھا ۔
عالمی طاقتیں ملک کی اندرونی لبرل و سیکولر طاقتوں سے مل کر اس قانون کے خلاف اول دن سے مہم چلانی شروع کر دی تھی۔لیکن عوامی رائے عامہ اور علماء کی متفقہ پوزیشن نے ایسا تو نہیں ہونے نہیں دیا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب اس پر حکومت اور اعلیٰ عدالت کا اتفاق ہو چکا ہے کہ کسی کو سزا نہیں دینی ہے۔ سیکڑوں مقدمات آئے ہیں ، اور اس میں ایک بڑی تعداد سپریم کورٹ تک گیا ہے۔ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ تک سے سزا ہونے کے بعد جب مقدمہ سپریم کورٹ پہنچتا ہے تو وہاں اسے دبا دیاجاتا ہے یا اسے بری کر دیا جاتا ہے۔ اور اب تو یہ چلن عام ہو گیا ہے۔ پاکستان کی اقلیت میں سے ایک گروہ قادیانی شاتمین کو ہوا دے رہا ہے، اور عیسائی لابی یہ یقین دہانی کر ا رہی ہے کہ پورا عیسائی مغرب تمہارے پشت پر ہے۔اور تمہیں بچا لیا جایا گا۔یورپ کی امیگریشن اور شاندار مستقبل تمہارے سامنے ہے۔ گویا قانون بنا کر اس کو بے معنی بنا دینا، توہین رسالت کیلئے دروازوں کے ہر پٹ کو کھول دینا ہے۔اس وقت پاکستان میں یہی صورت حال ہے۔جنرل مشرف نے اعلانیہ کہا تھا کہ جس عورت کو باہر جانا ہوتا ہے وہ زنا بالجبر کرا لیتی ہے۔خیر وہ تو ایک شریر النفس انسان تھا۔لیکن اس معاملہ میں صورت حال ایسی ہی بنتی نظر آتی ہے۔
مسلمانوں کے اندر اسلام کا جو آخری قلعہ ہے وہ ہے خاندان ، اور آخری نقطہ وہ دل ہے جس میں حب رسولﷺ ہے۔عالمی شیطانی قوتیں اس آخری قلعے کو گرا دینا، اور آخری نقطہ کو مٹا دینا چاہتی ہیں۔مسلمانوں کی صف سے اب بہت ’’اہل عقل‘‘ نکلیں گے، اور نکل رہے ہیں جو اہانت رسول کی سزا کی مخالفت کر رہے ہیں۔ اور دلیل ایک سے بڑھ کر ایک لا رہے ہیں۔ سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ حب رسول ﷺ کی اطاعت ہی نہیں کرتے یا اس میں کوتاہی کرتے ہو تو گستاخی رسول ﷺ پر غصہ کیوں آتا ہے۔حالانکہ یہ دونوں ایک بات بھی ہے اور دو الگ باتیں بھی۔آپ اپنی والدہ کی خدمت میں کوتاہی کرتے ہیں، اگر دور ہوں تو روز فون نہیں کر پاتے، اور وہ تمام حقوق جو آپ پر واجب ہیں، ادا نہیں کر پاتے۔لیکن ایک شخص آکر آپ کی والدہ کو بیہودہ گالیاں دینے لگتا ہے، تو آپ میں ذرا بھی غیرت ہو گی تو اس کے کالر پکڑ کر گھونسے لگانے شروع کر دیں گے۔اور اگر پٹھان کا خون ہوگا تو وہ اس کا گلا دبانے کی بھی پوری کوسش کرے گا۔ یہاں کوئی آپ کو طعنے نہیں دینے آ تا کہ والدہ کی اطاعت تم نہیں کرتے تو ماں کو گالی دینے پرتم کو اتناغصہ کیوں آیا۔ پٹنے والے سے آپ کی ذرا بھی ہمدردی نہیں ہوتی ہے۔ اور اگر اس سے ہمدردی ہوئی تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی بھی ہڈی پسلی سلامت نہیں رہے گی۔ لیکن رسول اللہ ﷺ کے معاملے میں جن کی محبت ایک مسلم کے دل میں اپنی ماں سے ہزار گنا زیادہ ہونی چاہئے، اس میں آپ غصہ کے بارہ میں یہ غیر عقلی ’’عقلی دلائل‘‘ کیوں لاتے ہیں؟
انسان کے اندر اللہ نے جتنے جذبات دیئے ہیں اس کی دو انتہا ہوتی ہیں، افراط و تفریط اور دونوں مغضوب ہوتی ہیں، اور اس جذبہ کو اعتدال اور درست سمت میں رکھنا، اور صحیح موقع پر استعمال کرنا ہی عین اسلام ہے۔اگر اہانت رسولﷺ پر بھی آپ کو غصہ نہیں آتا ہے تو آپ یا تو انتہائی بزدل انسان ہیں یا بے غیرت یا شیطانی عقل کے غلام۔اور ایمان آپ کے دل میں اب باقی نہیں ہے یا یہ اپنی آخری سانسیں لے رہا ہے۔ یہاں ایک حقیقی محبت کے نتیجے میں غصہ کی انسانی فطرت کو بروئے کار ہونا چاہیے تھا۔ نہ ہونا تشویشناک ہے۔
مشہور لبرل وکیل آنجہانی عاصمہ جہانگیر نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین رسالت کے مقدمہ میں ایک جج کی مخالفت کی تھی کیونکہ وہ توہین رسالت کے ایک ملزم کے مقدمہ میں جج کے پینل کے رکن تھے اورعاصمہ نے کہا تھا کہ یہ وہ جج ہیں جنھوں نے توہین رسالت کے ایک مقدمہ میں استغاثہ کو یہ کہا کہ تم نے شاتم رسول کو خود قتل کیوں نہیں کیا، مقدمہ لے کر عدالت میں کیوں آگئے۔ سوال یہ ہے کہ جس ملک میں ایک جج کے جذبات یوں ہیں، عام مسلمان کے جذبات کیا ہوں گے۔محمد رسول اللہ، نبی آخرالزماںﷺ کی زندگی میں ان کے جان اور عزت کے تحفظ کی ذمہ داری صحابہ کرامؓ پر تھی ۔ آپ ﷺ کے بعد قیامت تک آپ کے ناموس کی حفاظت کی ذمہ داری پوری امت مسلمہ پر ہے، یہ ان کے اپنے ایمان کا ثبوت ہے۔اللہ نے تو ان کا ذکر بلند کر دیا ہے( ورفعنا لک ذکرک) اور خود اللہ اور فرشتے ان پر درود بھیجتے ہیں۔لیکن مسلمانوں کا بھی اسی حوالہ سے امتحان ہے۔ مولانا ظفر علی خان نے اس ذمہ داری کو اپنے اشعار میں یوں ڈھالا ہے کہ؛
نمازاچھی، حج اچھا،روزہ اچھا اور زکوٰۃ اچھی
مگر میں باوجود اس کے مسلماں ہو نہیں سکتا
نہ جب تک کٹ مروں میں خواجہ یثرب کی حرمت پر
خدا شاہد ہے کامل میرا ایماں ہو نہیں سکتا
’’کوئی مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ وہ آقا و مولاﷺ کو اپنے والدین، اپنی اولاد، اپنی جان اور دیگر تمام علائق سے زیادہ عزیز نہ جانے (صحیح بخاری و مسلم کی ا حادیث کا مفہوم)۔سیدنا حضرت ابوبکرصدیقؓ نے ایک مرتبہ فرط عقیدت سے فرمایا تھاکہ مجھے محبوب خدا خود، خدا سے بھی زیادہ محبوب ہیں۔یہ انتہائے محبت کا ایک انداز اظہار تھا۔ علامہ محمد اقبالؒ نے اس واقعہ پر فارسی میں چند اشعار بھی کہے ہیں۔غزوہ احد میں دانائے سبل،ختم الرسلﷺ کا ایک دانت مبارک شہید ہوا، تو بعض کے بقول ،اویس قرنیؒ نے فرط جذبات محبت میں اپنے تمام دانت توڑ لئے تھے۔ایک صحابیؓ حضوراکرمﷺ کو اس طرح ٹکٹکی باندھ کر دیکھتے کہ لمحہ بھر کے لئے بھی آپ کے چہرہ مبارک سے نظر نہ ہٹتی۔ آپ ﷺ نے ان سے دریافت کیا کہ تم ایسا کیوں کرتے ہو؟ غلام نے فرمایا کہ میرے ماں باپ آپﷺ پر قربان ، میں تو آپ کی طرف دیکھ کر نفع حاصل کرتا یعنی اپنے دل و نگاہ کو ٹھنڈک پہنچاتا ہوں۔ ابن اسحاق سے روایت ہے کہ انصار کی ایک عورت تھی جس کا باپ، بھائی اور خاوند سب کے سب غزوہ احد کے دن رسول پاک ﷺ کے حکم پر لڑتے ہوئے شہید ہو گئے۔ جب اس عورت کو ان کی شہادت کی اطلاع دی گئی تو اس نے صرف ایک ہی سوال کیا کہ میرے آقا و مولاﷺ کاکیا حال ہے۔لوگوں نے بتایا کہ آپ ﷺ خدا کے فضل و کرم سے بخئریت ہیں جیسا کہ تو چاہتی ہے۔ تب اس نے کہا کہ مجھے دیدار کروا دو۔جب سرور عالمﷺ پر نگاہ پڑی تو پکار اٹھی کہ آپﷺ کے ہوتے ہوئے ہر مصیبت میرے لئے معمولی ہے۔
ہجرت کی رات کو اللہ کے رسولﷺ کے بستر پر اپنی جان کی پرواہ کئے بغیر علی المرتضیٰ سو گئے تھے۔اور رسول اللہﷺ دوسرے فدائی ابوبکر صدیقؓ کے ساتھ مکہ سے نکل گئے تھے۔عثمان غنیؓ نے رسول اللہ ﷺ کے بغیر طواف کعبہ گوارا نہیں فرمایا تھا۔عثمان غنیؓ، ابوذرؓ، بلالؓ، زبیرؓ، سعید بن زیدؓ، اور سعد بن وقاصؓ کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺسے محبت کے باعث جلادانہ بے رحمی کی گئی، لیکن عشق رسولﷺ میں ہر اذیت برداشت کی۔ا مام مالک ؒ ایک بار حج کے فریضہ سے سبکدوشی کے بعد پھر کبھی مدینہ سے نہیں نکلے۔ ان کو خوف تھا کہ کہیں مدینہ سے باہر ان کا انتقال نہ ہو جائے اور دیار حبیب ﷺ میں ان کی قبرنہ بن پائے۔ ہمارے پاس حب رسولﷺ کی ایک تابناک تاریخ ہے جو اس مختصر سے کالم میں سمیٹی نہیں جا سکتی۔ 
رسول اللہ ﷺ نے اپنی زندگی میں توہین رسالت کے مرتکبین کو سزائیں بھی دیں اور معاف بھی کر دیا ہے، یہ ان کا ذاتی معاملہ تھا لیکن ان کے بعد ان کی عزت اور ان کے مقام و مرتبہ کی حفاطت کرنے کی ذمہ داری(امتحان) امت مسلمہ پر ہے۔کیونکہ اب قیامت تک انسانوں کی ہدایت کا واحد ذریعہ آپﷺ کی ذات و زندگی ہے۔ قرآن و سنت کی الٰہی تعلیمات آپ کے ذریعہ سے ہی آئی ہیں۔اگر آپ کی زندگی کو مذاق کا موضوع بنایا گیا تو انسانوں کی یہ بہت بڑی بد قسمتی ہوگی کہ وہ ہدایت کے اس واحد سرچشمہ کو وہ پا نہیں سکے گا، اور انسان بڑے خسارہ میں مبتلا رہے گا۔دراصل انسانوں کو ناکامی سے بچانے کے لئے ہدایت سے متعلق اب شخص واحد آپ ﷺ کی ذات ہی ہے جس کی ناموس کی حفاطت ایک بڑا فریضہ ہے جسے ہم مسلمانوں کو انجام دینا ہے۔اور اس حوالے سے غصہ ایک بڑی نعمت ہے۔ہمیں ساری دنیا کو یہ بتا دینا ہے کہ رسول اللہﷺ کی اہانت کو ہم برداشت نہیں کر سکتے ۔

jawed@seerahwest.com

Your Comment