و رفعنا لک ذکرک محمدﷺ

April 19,2019, ,Weather : °

Fajr:, Dhuhr:, Asr:, Maghrib:, Isha:

تین جماعتیں: ایک سکہ کے تین رخ؟

14 Jul 2018
تین جماعتیں: ایک سکہ کے تین رخ؟

 سید جاوید انور  

  1993 کے انتخاب کے دوران میرا کالم ’’تیسرا نقطہ: جاوید انور‘‘ جسارت کے ادارتی صفحہ پرکثرت سے شائع ہوتا تھا۔ اس زمانہ میں اسلامی حلقہ میں ’’چھوٹی برائی‘‘ اور ’’بڑی برائی‘‘ کی بحث عام تھی۔ اور ایک گروہ کا خیال تھا کہ نواز لیگ کو کمتر برائی تسلیم کر تے ہوئے جماعت اسلامی کو اس کے ساتھ مستقل تعاون کرنا چاہیے۔ حالاں کہ 1990 کے الیکشن میں جماعت اسلامی کا نواز لیگ سے اسلامی جمہوری اتحاد کا ایک ناکام اور عبرت ناک تجربہ ہو چکا تھا۔ محترم قاضی حسین احمد ؒ نے نواز لیگ کے ساتھ اپنے سیاسی تجربات کے نچوڑ کو اس طرح بیان کیا تھا کہ: ’’پیپلز پارٹی اور نواز لیگ ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں‘‘۔ میرا موقف بھی چوں کہ سو فی صد یہی تھا، اس وجہ سے میرے کالم قاضی حسین احمدؒ ، جماعت اسلامی اور اس وقت کے نئے سیاسی پلیٹ فارم پاکستان اسلامک فرنٹ کے حلقہ میں خوب مقبول ہوئے۔ میں یقین سے کہ سکتا ہوں کہ اگر مرحوم حیات ہوتے تو تحریک انصاف کے ساتھ اب تک کے تجربات، اور اس گروہ میں شامل لوگوں کو دیکھ کر یہی کہتے کہ یہ ایک ہی سکہ کا تیسرا رخ ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ 25 جولائی کے الیکشن میں (اگر یہ ہوگئے) عوام غلط فیصلے کرنے سے باز آجائیں گے۔

1970 کے الیکشن میں پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بہت واضح تھا۔ مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ کو اور مغربی پاکستان میں پیپلز پارٹی کو ووٹ دینے کا مطلب تھا پاکستان کا دو حصوں میں تقسیم ہونا۔ جب کہ دونوں طرف موجود جماعت اسلامی کو ووٹ دینے کا مطلب تھا، اتحاد؛ عقیدہ توحید کی بنیاد پر اتحاد اور پاکستان کا درست سمت میں سفر کا آغاز۔ تاریخ کے اتنے اہم موڑ پر عوام کا غلط فیصلہ، اپنے پاؤں پر اجتماعی کلہاڑی مارنا تھا۔ ذوالفقار بھٹو اور مجیب الرحمن دونوں کو ہر قیمت پر وزیر اعظم بننا تھا خواہ پاکستان متحد رہے یا تقسیم ہو، عوام نے دونوں کی مدد کی۔ تو اس کے بعد جمہوریت اور طریقہ انتخابات کی خامی پر بحث چلی۔ مغربی اور برطانوی طرز جمہوریت کے مکمل خاتمے سے لے کر انتخابی اصلاحات تک کافی بحث رہی۔ نیو یارک میں مقیم ہمارے بزرگ ساتھی امراللہ حسینی اکثر سید مودودیؒ سے ان کے آخری برسوں میں جب وہ بفیلو، نیو یارک میں اپنے ڈاکٹر بیٹے کے پاس آئے تھے، اپنی ملاقات کا ذکر کرتے ہیں (مجھ سے غالباً 2002 میں)۔ وہ یقین سے کہتے ہیں کہ سید مودودی ؒ 1970 کے تجربات سے موجودہ طرز جمہوریت اور طریقہ انتخاب سے مکمل مایوس ہو چکے تھے۔ بہر حال یہ ایک الگ موضوع ہے گفتگو اور بحث کا۔ لیکن مجھے حیرت اس بات پر ہوتی ہے کہ اسلامی جماعتیں طریقہ انتخاب میں اصلاح اور متناسب طرز انتخاب کے اپنے دیرینہ مطالبہ سے کیوں دستربردار ہو گئیں یا اس میں ان کا زور کم کیوں ہو گیا۔

جس جس ملک میں کسی اسلامی جماعت کو جزوی یا مکمل کامیابی ملی ہے وہ ان کے یہاں قائم پارٹی کی متناسب نمائندگی کے اصول والی جمہوریت میں ملی ہے۔ اس طرح کے انتخاب میں ووٹرز پارٹی کو ووٹ دیتے ہیں ناکہ افراد کو۔ ہر پارٹی کو اس کے حاصل شدہ ووٹ کے تناسب سے نشستیں ملتی ہیں اور پارٹی اپنے بہترین افراد کی فہرست سے رکن پارلیمنٹ نامزد کرتی ہے۔ مرسی کو مصر میں اور طیب اردوان کو ترکی میں، ان کی جماعتوں کو اسی طرز انتخاب کی وجہ سے کامیابی ملتی رہی ہے۔ برطانوی طرز انتخاب صرف دو جماعتوں کی موجودگی کو واجب کرتا ہے۔ تیسرا مہرہ صرف اس لیے ہوتا ہے کہ دو مہروں میں سے کسی ایک یا دونوں کی ناکامی کی صورت میں اسے آگے بڑھا دیا جائے۔ عام طور پر اس کا موقع نہیں ہوتا لیکن اس کی ضرورت ’’ایمرجنسی‘‘ میں پڑتی ہے۔ تیسری دنیا کے زیادہ تر ممالک میں یہ دونوں یا تینوں مہرے امریکی امپائر کے مہرے ہوتے ہیں۔ جو امریکی کارپوریشنوں کے تجارتی اور مالی مفادات کے خاطر لائے جاتے ہیں۔ جہاں سیاست (جمہوریت اور انتخابات) سے مطلوبہ نتائج نہیں حاصل ہوتے ہیں وہاں فوجی طاقت سے یہ تبدیلی لائی جاتی ہے۔ یہی حال بادشاہوں اور فوجی حکمرانوں کا ہے کہ اگر انہوں نے ’’امپائر‘‘ کے حکم سے ذرا بھی لاپروائی کی، اور اس سے سرمو انحراف کیا تو ان کی لگام کھینچ لی جاتی ہے۔ یہ ایک ہی سکہ کے مختلف رخ ہوتے ہیں۔ ہر تبدیلی (کبھی اسے انقلاب کا نام دیا جاتا ہے)، غلامی کی زنجیر کو مزید سخت کرنے یا ڈھیلا پڑ جانے کی وجہ سے دوبارہ باندھنے کے لیے لائی جاتی ہے۔

پاکستان کے تناطر میں بھٹو اور زرداری اور نواز شریف کی ناکامیوں سے یہ ’’خطرہ‘‘ پیدا ہو گیا تھا کہ کرپشن سے پاک اور اسلامی پاکستان کی داعی جماعت اسلامی کے اقتدار میں آنے کا راستہ ہموار ہو جائے گا۔ چناں چہ ’’کرپشن سے پاک‘‘ اور ’’اسلامی‘‘ متبادل کے لیے عمران خاں پر خصوصی ’’محنت‘‘ کی گئی ہے۔ تحریک انصاف کو پاکستان پیپلز پارٹی (جس کا گراف مسلسل گر رہا ہے) کے متبادل کے طور پر لایا گیا ہے۔ یہ الیکشن پاکستان مسلم لیگ (ن) بمقابلہ پاکستان تحریک انصاف ہے۔ جب مقتدرہ اور میڈیا کی طرف سے صرف ان دو جماعتوں کو سامنے لاکر پیش کیا جائے گا تو عام آدمی شریف فیملی کے کرپشن کے پہاڑ کے بالمقابل لازماً عمران خان کی تحریک انصاف ہی کی طرف جائے گا۔ اور دیگر ادارے جن میں خفیہ ادارے بھی شامل ہیں معاونت کریں تو اسے کامیابی سے کوئی روک نہیں سکے گا۔ شریف برادران کے کرپشن کا بہانہ اور ہوا کے رخ کو دیکھ کر ملک کے مغرب زدہ لبرلز اور سیکولرز تحریک انصاف کے زیر سایہ آچکے ہیں۔ اگر پی ٹی آئی امیدواروں کی لسٹ پر نگاہ ڈالی جائے تو اس جماعت میں بدعنوان عناصر جمع ہے اور یہی گروہ آگے حاوی ہونے والا ہے۔

میاں نواز شریف کا بدعنوانی کے ساتھ ساتھ فوج سے ٹکراؤ اور فوج کو رسوا کرنے کا سفر بہت مہنگا پڑا ہے۔ انہیں بھولنا نہیں چاہیے تھا کہ افواج پاکستان آپ کا باپ ہے۔ باپ غلط ہو سکتا ہے لیکن باپ تو باپ ہی ہوتا ہے اور اس کا احترام بھی لازم ہے۔ اور باپ کی ’’بد دعا‘‘ تو تیر کی طرح لگتی ہے، اور خوب گہرا اثر رکھتی ہے۔ مرحومہ بے نظیر بھٹو اس بات کو خوب اچھی طرح جان چکی تھیں، اس لیے اپنے انکلز (بھٹو مرحوم کے ڈیڈیوں) سے معافی تلافی کے بعد ہی وطن واپس آسکی تھیں۔ آصف علی زرداری بھی سیاسی ’’ولدیت‘‘ کے اس رشتے کی نزاکت کو خوب اچھی طرح جان چکے تھے۔ وہ کرپشن کے الزام میں جیل جانے اور کاٹنے کے بعد بھی، اور کسی ڈگری اور تعلیم کے بغیر صدر پاکستان بن گئے اور انہیں فوجی سایہ اور پروٹوکول حاصل رہا۔ ڈاکے کے ساتھ حماقت نہیں چلتی اس لیے میاں نواز شریف رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں اور ان کی سیاسی لٹیا ڈوب چکی ہے۔

منتخب ہونے کی صلاحیت رکھنے والی تمام جماعتیں اور افراد ایک ہی سکہ کے مختلف رخ ہیں۔ اور یا یوں کہہ لیجیے سیاسی بہروپیوں کی متنوع شکلیں ہیں۔ جماعت اسلامی کے بارے میں لوگ یہ کہ رہے ہیں کہ وہ قابلِ منتخب (انتخابی) نہیں ہیں، اور بات یہ بھی آرہی ہے کہ فضل الر حمن صاحب کے امیج سے متحدہ مجلس عمل اور جماعت اسلامی کو نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جماعت اسلامی تنہا انتخاب لڑتی تو اس کی انتخابیت (استعداد) میں اضافہ ہو جاتا؟ ظاہر ہے کہ ان جماعتوں کا اپنا تخمینہ، حساب کتاب، اور مقاصد اور ان کی اپنی حکمت عملی ہے۔ دینی جماعتوں کا برطانوی طرز کی مغربی جمہوریت، نیشن اسٹیٹ اور لبرلزم کے تصورات جس کے تحت انتخابی اور جمہوری نظام بنا ہے اس کا ناقدانہ اور گہرا مطالعہ اور یہ یقینی معلومات کہ کیا اس نظام سے کوئی خیر برآمد ہو سکتا ہے، ضرور ہونا چاہیے۔ یہ سوالات بھی اٹھانا چاہیے کہ کیا ہمارا انتخابی نظام دستور پاکستان سے ہم آہنگ ہے؟ کیا کسی متقی اور صالح، اور صادق و امین انسان (اسلام میں قیادت کی شرط) کے لیے اس نظام میں کامیاب ہونا ممکن ہے؟

کیا سیاسی کھیل کا میدان اور اس کے طے شدہ اصول اسلام اور دینی جماعتوں کے مقاصد سے ہم آہنگ ہیں؟ کیا دینی جماعتوں کے لیے دین کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کھیل کو کھیلنا اور اس کے اصولوں کو اپنانا ممکن ہے؟ کیا انتخاب کے علاوہ بھی اقتدار کے حصول کا کوئی پرامن راستہ ہو سکتا ہے؟ کیا ’’اسلام‘‘ کا غلبہ ’’جماعت‘‘ (کسی خاص دینی جماعت) کے غلبہ کے بغیر ممکن ہے؟ کیا مسلسل ناکامیوں کے بعد بھی اس نظام انتخاب سے امید باندھی جا سکتی ہے؟ اگر ہاں تو کب تک؟ اگر کامیابیوں اور ناکامیوں سے بالاتر ہو کر انتخاب میں حصہ لینا ہے تو اس کے اصل مقاصد کیا ہو نے چاہیے؟ یعنی انتخابی مہم سے آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ وغیرہ اس کے علاوہ پاکستان کے اصل مسائل کیا ہیں، اس کا تعین ضروری ہے۔ کیا واقعی ’’کرپشن‘‘ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے؟ یا اصل مسئلہ کچھ اور ہے؟ کیا کرپشن مسائل کی جڑ ہے یا اس کی ایک شاخ؟ کیا ہمارے مسائل کی جڑ غلامی (غیر اللہ کی) نہیں ہے؟ کیا تعلیمی غلامی (بذریعہ سڑا گلا ہوا مغربی نظام تعلیم جو ہر سال غیر ہدایت یافتہ، نیم ہنر مند، نیم تعلیم یافتہ کرپٹ انسان لاکھوں کی تعداد میں پیدا کرتا ہے) کے ذریعہ ہم سامراج کی ذہنی غلامی میں بری طرح گرفتار نہیں ہیں؟ کیا معاشی غلامی (بذریعہ سودی نظام) میں ہم یہودی اور مغربی نظام میں جکڑے ہوئے نہیں ہیں؟؟ اگر غلامی مسائل کی جڑ اور کرپشن اس کی ایک شاخ ہے، تو کیا دینی جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی اور ان کا بیانیہ وہی ہونا چاہیے جو اس وقت ہے؟

ووٹر کی حیثیت سے آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہر قسم کی غلامی سے نکلنے کا راستہ صرف جماعت اسلامی کے پاس ہے، کوئی ایک جماعت بھی اس میں آپ کی مددگار نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے؛ ’’تیر‘‘، ’’بلا‘‘ اور شیر سب غلامی کی’’ بکری‘‘ کے نشانات ہیں۔ آئندہ الیکشن میں ’’کتاب‘‘ پر مہر لگا کر جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کو ووٹ ڈالنا ہی آزادی اور امانت داری ہے۔ یہ ایک دینی فریضہ ہے، غلط جماعت، اور غلط فرد کو ووٹ ڈالنا امانت میں خیانت ہے جس کی جوابدہی آخرت میں ہوگی۔ اور اس بات پر علماء کا اجماع ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ملکی سیاست میں اس وقت جو شر کا عنصر غالب آگیا ہے، اس سے خیر برآمد ہوجائے۔

کیا سیاسی کھیل کا میدان اور اس کے طے شدہ اصول اسلام اور دینی جماعتوں کے مقاصد سے ہم آہنگ ہیں؟ کیا دینی جماعتوں کے لیے دین کے دائرے میں رہتے ہوئے اس کھیل کو کھیلنا اور اس کے اصولوں کو اپنانا ممکن ہے؟ کیا انتخاب کے علاوہ بھی اقتدار کے حصول کا کوئی پرامن راستہ ہو سکتا ہے؟ کیا ’’اسلام‘‘ کا غلبہ ’’جماعت‘‘ (کسی خاص دینی جماعت) کے غلبہ کے بغیر ممکن ہے؟ کیا مسلسل ناکامیوں کے بعد بھی اس نظام انتخاب سے امید باندھی جا سکتی ہے؟ اگر ہاں تو کب تک؟ اگر کامیابیوں اور ناکامیوں سے بالاتر ہو کر انتخاب میں حصہ لینا ہے تو اس کے اصل مقاصد کیا ہو نے چاہیے؟ یعنی انتخابی مہم سے آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں؟ وغیرہ اس کے علاوہ پاکستان کے اصل مسائل کیا ہیں، اس کا تعین ضروری ہے۔ کیا واقعی ’’کرپشن‘‘ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے؟ یا اصل مسئلہ کچھ اور ہے؟ کیا کرپشن مسائل کی جڑ ہے یا اس کی ایک شاخ؟ کیا ہمارے مسائل کی جڑ غلامی (غیر اللہ کی) نہیں ہے؟ کیا تعلیمی غلامی (بذریعہ سڑا گلا ہوا مغربی نظام تعلیم جو ہر سال غیر ہدایت یافتہ، نیم ہنر مند، نیم تعلیم یافتہ کرپٹ انسان لاکھوں کی تعداد میں پیدا کرتا ہے) کے ذریعہ ہم سامراج کی ذہنی غلامی میں بری طرح گرفتار نہیں ہیں؟ کیا معاشی غلامی (بذریعہ سودی نظام) میں ہم یہودی اور مغربی نظام میں جکڑے ہوئے نہیں ہیں؟؟ اگر غلامی مسائل کی جڑ اور کرپشن اس کی ایک شاخ ہے، تو کیا دینی جماعتوں کی سیاسی حکمت عملی اور ان کا بیانیہ وہی ہونا چاہیے جو اس وقت ہے؟

ووٹر کی حیثیت سے آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ہر قسم کی غلامی سے نکلنے کا راستہ صرف جماعت اسلامی کے پاس ہے، کوئی ایک جماعت بھی اس میں آپ کی مددگار نہیں ہے اور نہ ہو سکتی ہے؛ ’’تیر‘‘، ’’بلا‘‘ اور شیر سب غلامی کی’’ بکری‘‘ کے نشانات ہیں۔ آئندہ الیکشن میں ’’کتاب‘‘ پر مہر لگا کر جماعت اسلامی اور متحدہ مجلس عمل کو ووٹ ڈالنا ہی آزادی اور امانت داری ہے۔ یہ ایک دینی فریضہ ہے، غلط جماعت، اور غلط فرد کو ووٹ ڈالنا امانت میں خیانت ہے جس کی جوابدہی آخرت میں ہوگی۔ اور اس بات پر علماء کا اجماع ہے۔ اللہ سے دعا ہے کہ ملکی سیاست میں اس وقت جو شر کا عنصر غالب آگیا ہے، اس سے خیر برآمد ہوجائے۔

jawed@seerahwest.com


Your Comment