و رفعنا لک ذکرک محمدﷺ

April 19,2019, ,Weather : °

Fajr:, Dhuhr:, Asr:, Maghrib:, Isha:

انتخابی نتائج :مخالفت یا دعوت

03 Aug 2018
انتخابی نتائج :مخالفت یا دعوت

سید جاوید انور

( نوٹ :یہ کالم 28 جولائی  2018 کو لکھا گیا)   

پاکستان کا 2018انتخابی عمل مکمل ہوا اور امید ہے کہ عمران خاں وزیر اعظم کی حیثیت سے جلد ہی حلف لے لیں گے۔اور امکان یہی ہے ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت مرکز میں اگلے پانچ سال پوری کرے گی۔اور جس طرح یہ افواہ غلط ثابت ہوئی کہ انتخاب اپنے وقت مقررہ پر نہیں ہوں گے، اب وسط مدتی انتخاب کے امکان کی افواہ بھی جلد دم توڑ دے گی ۔پاکستان کی معیشت کے کس بس نکل رہے ہیں، زندگی کے لئے ہوا کے بعد سب سے ضروری شئے پانی ہے جس کی قلت، شدید بحران کی کیفیت پیدا کرنے والی ہے۔ امریکا نے ہاتھ کھینچا ہوا ہے او ر فوجی ادارہ سمیت تمام ریاستی اداروں کے اندر اتنی جان نہیں کہ وہ اب کوئی ایڈونچر کر سکے۔ متحدہ مجلس عمل( ایم ایم اے) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کی نتائج نہ تسلیم کرنے اور حلف نہ لینے کی بات ایک آدھ سیاسی جماعت کے سوا کسی نے نہیں مانی ہے۔اور عمران خان کی فتح کی تقریر میں جومصالحتی اشارے ہیں اس میں مسلم لیگ (ن) اور ایم کیو ایم کے ساتھ تمام جماعتیں راحت کی کچھ امید لگا رہے ہیں ۔اس طرح اگر متحدہ مجلس عمل نے اسمبلیوں کے بائیکاٹ اور حلف نہ لینے کا فیصلہ کیا تو وہ سیاسی موت کے پروانہ پر دستخظ کرنے کے مترادف ہو گا۔
مولانا فضل الرحمان اپنے اجدادی حلقہ سے مستقل قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوتے رہے ہیں ۔ اور ہر حکومت کے ساتھ مل کر انھیں اقتدار میں رہنے کی عادت ہے۔اقتدار کی آسائشیں اور سہولتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ان کو چھوڑنے کو دل نہیں کرتا اور اگر چھوٹ جائے تو بہت ملال ہوتا ہے۔ایسی حالت میں صبر کا بڑا امتحان ہوتا ہے۔ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مولانا کا صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ رہا ہے۔ان کی جماعت کے گرد ہو سکتا ہے ان کے مریدوں کا بڑا ٹولہ ہو جو ان کو شایدسیاسی طور پر کچھ دن اوربچائے رکھے۔لیکن جماعت اسلامی کو اس سے ناقابل تلافی نقصان ہوا ہے اور مزید ہونے کا امکان ہے۔مجھے ایسا معلوم ہوتا ہے اور ہو سکتا ہے کہ میرا اندازہ غلط ہو کہ سیاسی حکمت عملی وضع کرنے والے دماغ کم ہو گئے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ تجربہ کارنیا خون آنا کم یا بند ہو گیا ہے اور نئی نسل ،پرانی نسل کے، اور کوئی نئی فکر پرانی فکر کے متبادل نہیں آرہی ہے۔
ایم ایم اے کی تشکیل میں غالباً دو بڑی دینی جماعتوں کے روایتی ووٹ کو گن کر اندازہ لگایا گیا ہوگا کہ اتحاد سے دینی ووٹ یکجا ہو جائے گا اور اس طرح ایک بڑی تعداد اسمبلیوں میں پہنچ جائے گی۔لیکن یہ اندازہ نہیں لگایا گیا کہ ووٹرز پر اس کے نفسیاتی اثرات کیا پڑیں گے۔ایم ایم اے کی 2002 کی ایک بڑی کامیابی جس میں صوبہ سرحد میں اقتدار اور بلوچستان میں شراکت اقتدار حاصل ہو گیا تھا، اس کے باوجود یہ اتحاد باقی نہ رہ سکا۔ اور 2008 کے جنرل مشرف کے زیر اقتدار انتخاب میں الیکشن کے بائیکاٹ اور عدم بائیکاٹ کو لے کر معاملہ خراب ہوا ۔پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں نے ابتداً بائیکاٹ کا فیصلہ کر لیا تھا۔لیکن بعد میں زیادہ تر جماعتیں مکر گئیں اور انتخاب میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ایم یم اے کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بائیکاٹ کا فیصلہ مسترد کر دیا اور جماعت اسلامی اس فیصلہ پر جمی رہی۔ پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) بھی بائیکاٹ کے فیصلہ پر جمی رہی (شاید اگلے انتخاب میں جے آئی کی پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کی یہی بنیادی وجہ رہی ہوگی)۔ میری رائے کے مطابق بائیکاٹ کا فیصلہ درست فیصلہ نہیں تھا۔ یہاں مولانا فضل الرحمان کا فیصلہ صحیح تھا۔ بائیکاٹ کرنے والی سیاسی جماعتیں کم از کم دس سال پیچھے چلی گئیں۔اگرپی ٹی آئی اس سال بائیکاٹ نہ کرتی تو میرے خیال میں وہ موجودہ نتیجہ گزشتہ انتخاب میں ہی نکال لیتی۔جب کی موجودہ انتخاب میں اس کے مزید پیشرفت کے امکانات تھے۔ 
جب جمہوری، انتخابی نظام سیاست سے نکاح ہو چکا ہے تو فریضہ ’’زوجیت‘‘ ہر حال میں نبھانا تھا۔مناسب اور نامناسب دونوں حالات میں’’منکوحہ‘‘ سے نباہ کرنا ہوتا ہے۔اور اگر نہیں کر سکتے تو معقول طریقے سے طلاق دے کر الگ ہو جایا جاتا ہے۔ اس کو تنہا چھوڑنا معقول بات نہیں ہے ۔ مولانا فضل الرحمان نے اس وقت زیادہ سیاسی بصیرت کا ثبوت دیا تھا۔ لیکن مولانا جب باری باری سے پی پی پی، پاکستان پی ایم ایل این اورایم ایم اے، اور پھر پی ایم ایل این کے ساتھ مل کر اقتدار کے مزے لوٹ رہے تھے اس وقت وہ بالکل بھول گئے یا اندازہ نہ لگا سکے کہ پاکستان کے عام ووٹرز اور خود ان کی جماعت کے روائتی ووٹرز کا ان کے بارے میں کیا رائے بن چکا ہے۔دوسری طرف خود جماعت اسلامی کا متحدہ مجلس عمل میں شامل ہونا، سرحد میں جمیعت علماء اسلام کے ساتھ حکومت بنانا، اس کے بعد اس سے علیحدگی اور پاکستان تحریک انصاف سے اتحاد، اور اس کے ساتھ مل کر خیبر پختونخواہ خواہ میں حکومت بنانا، اور اس کے بعد اس سے علیحدگی ( اس کی وجہ خواہ کچھ بھی ہو)، اور دوبارہ مولانا فضل الرحمان صاحب کے ساتھ اتحاد، نے پاکستان کے عام ووٹرز اور خود اس کے روائتی ووٹرز پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوئے جو موجودہ انتخابی نتائج میں منتج ہو ئے۔ ممکن ہے کہ اس اتحاد کے مبلغین کو ووٹرز کے اس نفسیاتی ردعمل کا اندازہ نہ ہو۔جس اتحاد کو ایک جمع ایک دو یا گیارہ بتایا جا رہا تھا وہ دراصل ایک منفی ایک صفر تھا۔میرا اندازہ یہ تھا کہ اس بار شاید ایم ایم اے کو ایک سیٹ بھی نہ ملے۔ اگر کچھ نشستیں مل گئی ہیں تو اس پر اللہ کا شکر ادا کر کے وہ نئی صف بندی کریں اور نئی حکمت عملی وضع کریں۔ مخالفت، دھاندلی اور بائیکاٹ کا شور شرابہ، جلسے، جلوس، ریلیاں، کسی کے کام نہیں آئی ہیں اور نہ آئندہ آئیں گی۔ان حرکتوں سے ریاست کمزور ہو گی اور دینی جماعتیں اپنی ساکھ اور وقار  گنوائیں گی۔ہوا کا رخ جس سمت بہ رہا ہے، اس میں اسی بات کا امکان ہے کہ اگر دوبارہ انتخاب ہو گئے تو پاکستان تحریک انصاف مزید نشستیں حاصل کرے گی۔ اور دینی جماعتوں کوکچھ اضافی حاصل نہ ہوگا۔احتجاج اور مخالفت اور اس کے لئے مشترکہ جدوجہد کی سب سے بڑی مثال 1977کے انتخابات کے بعد بھٹو مرحوم کے خلاف چلائی جانے والی قومی اتحاد کی تحریک ہے، اگر اس تحریک سے بھی ’’خیر ‘‘ برآمد نہیں ہوا تو اب کس طرح ہو سکتا ہے۔سیاسی تحریکات میں سیاسی قائدین کو نتائج کا اندازہ ہونا چاہئے۔اگر نتائج کا اندازہ نہ ہو تو نقصان بہت بڑا ہوتا ہے۔انتخاب میں شمولیت کے واضح مقاصد ہونے چاہئے۔ اور انھیں مقاصد کو سامنے رکھ کر سیاسی دینی جماعتوں کو اپنا اور اپنے قائدین کا احتساب کرنا چاہئے۔ اور انھیں ہدف کو سامنے رکھ کر حکمت عملی بنانی چاہئے۔اور مقاصد کا تعین ہمیشہ ممکنات کو سامنے رکھ کر بنایا جاتا ہے۔ناممکنات مقاصد میں شامل نہیں ہو سکتے۔ مشہور انگریزی مقولہ ہے کہ

 Politics is the art of possibility ’’سیاست امکان کا فن ہے۔‘‘
اگر حالیہ انتخاب میں دینی جماعتوں کا حدف اگر زیادہ سے زیادہ پارلیمانی نشستیں حاصل کرنا تھا اور اپنے قائدین کی سیٹ کو بچانا تھا تو اس کے لئے میرا مشورہ یہ ہوتا کہ جمیعت علماء اسلام (ف) کا اتحاد اور نشستوں کا ایڈجسٹمنت مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ہوتا اور وہاں جماعت اسلامی اپنا کوئی امیدوار نہیں کھڑا کرتی۔ اور اسی طرح جماعت اسلامی کا سیٹ ایڈجسٹمنٹ تحریک انصاف کے ساتھ ہوتا اور وہاں پر جمیعت علماء اسلام اپنا کوئی امیدوار نہیں کھڑا کرتی۔زیادہ نشستیں حاصل کرنے کا (اگر یہی مقصد تھا) اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں تھا۔
میرے نزدیک ایک اسلامی جماعت کا کردار حزب اختلاف کا ہوتا ہی نہیں ہے۔وہ یا تو حزب دعوت ہوتی ہے (مکی دور) یا حزب اقتدار ہوتی ہے (مدنی دور)

نبوی طریقہ یہی ہے کہ وقت کے اقتدار ، حکومت ، ملوک ،یا بادشاہ کو دعوت دی جاتی ہے۔ موسی ؑ نے فرعون کے دربار میں یہی کیا، اور محمد رسول اللہﷺ نے سرداران مکہ کے ساتھ یہی کیا۔ یوسفؑ نے جب ملوک کو دعوت دی تو اقتدار ان کی جھولی میں آگرا، اسی طرح جب نبی رحمت ﷺ نے مدنی سرداران کو دعوت دی تو حکومت آپ ﷺ کے ہاتھ میں آگئی۔جماعت اسلامی کو تحریک اسلامی یعنی دعوتی تحریک کا کرداد ادا کرنا چاہیے جو اس کی بنیاد ہے۔ ایم ایم اے کے تمام ہارنے والے امیدوار اپنے اپنے علاقے سے جیتنے والے امیدوار کے لئے اپنے گھر پر دعوت طعام اور ان کے استقبال کا اہتمام کریں۔جماعت اسلامی کے مرکزی امیر کی طرف سے قومی اسمبلی کے تمام اراکین کو اور جماعت کے صوبائی امیر کی طرف سے صوبائی اسمبلی کے لئے تمام کامیاب ہونے والے اراکین کے پاس ذاتی مبارکبادی کا خط جائے اور انھیں جماعت اسلامی کی سیاست اورانتخاب میں شرکت کی اصل وجہ بتائی جائے اور ان سے گزارش کی جائے کہ وہ بحیثیت رکن اسمبلی ان مقاصد اور آدرشوں کو سامنے رکھیں، جو دراصل پاکستان کے ہی ریاستی اور دستوری مقاصد ہیں۔ان کو ان مقاصد کے لئے تیار کئے گئے لٹریچر مہیا کئے جائیں۔اوران سے یہ بھی کہا جائے کہ ان مقاصد کے ساتھ چلنے پردنیا اور آخرت کی کامیابی ہے ، اگر آپ اس راہ پر چلے تو ہم آئندہ انتخاب میں آپ کی بھرپور مدد کریں گے، آپ کے مقابلے میں ہمارا کوئی امیدوار نہیں ہوگا اور ہم آپ کے لئے مہم بھی چلائیں گے۔جماعت اسلامی پاکستان کی اقتدار کی طرف دعوتی تحریک  سےبہت خوشگوار نتائج برآمد کر سکتی ہے جب کہ منفی تحریک، اختلاف، احتجاج کے جو نتائج اب تک نکلے ہیں وہی آئیندہ بھی نکلیں گے۔سویلین حکومت کی مخالفت کے نتیجہ میں فوجی حکومت برآمد ہوتی رہی ہے اور ملک میں انتشار پھیلتا جاتا ہے۔اب تک یہ تحریکیں کبھی مثبت نتائج لے کر نہیں آئیں اور نہ آئندہ اس بات کا امکان ہے۔اللہ ہم سب کو درست اور سیدھے راستہ کی رہنمائی کرے۔

jawed@seerahwest.com

Your Comment