و رفعنا لک ذکرک محمدﷺ

October 15,2019, ,Weather : °

اسلامی تحریکی کارکن شمیم صدیقی ؒ کی رحلت

04 Dec 2018
اسلامی تحریکی کارکن شمیم صدیقی ؒ  کی رحلت

تحریر جاوید انور 

    ’’دعوت، دعوت، دعوت، اسلام کی دعوت، امریکاز (امریکا اور کینیڈا) کے ہر ایک گھر میں اسلام کی دعوت، غیر مسلموں کواسلام کی دعوت‘‘۔شمیم صدیقیؒ کی زندگی، فکر، نصب العین کا یہی نچوڑ تھا۔ یہ بات ان کے ایک قریب ترین دوست فلشنگ، نیو یارک میں مقیم شمشیر علی بیگ صاحب نے مجھ سے ٹیلیفون پر چند منٹ کی گفتگو (علالت کے باعث) بتائی۔اس بات کی گواہی راقم سمیت امریکا کے سیکڑوں افراد دے سکتے ہیں،خصوصاً وہ لوگ جو اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا (اکنا) کے رکن ہیں یا رہے ہیں، یا کسی بھی حیثیت سے اسلامی تحریک اور اسلامی دعوت کے کام سے جڑے ہیں بشمول امریکا میں اسلام اور مسلمانوں کے تمام قائدین کے۔۔

شمیم صدیقی ؒ (پ: 3 جولائی 1926) کا انتقال مقامی رویت ہلال کے مطابق 12 ربیع الاول (یوم پیدائش و وفات محمد رسول اللہ ﷺ)، مورخہ21 نومبر 2018کو 92 سال کی عمر میں، لانگ آئی لینڈ، نیو یارک، امریکا میں ہوا۔ واضح رہے کہ چاند کے مسئلہ پر وہ ہمیشہ مقامی رویت کی شرط کے سختی سے قائل تھے۔ اپنی موت سے بھی انھوں نے اپنے موقف کی درستگی کی گواہی دے دی۔گویا کہہ رہے ہوں کہ بھائیو! میری سن لو! آج13 نہیں 12ربیع الاول ہے، اپنا کیلینڈر درست کر لو۔
شمیم صدیقی ؒ کی یاد میں اچانک ابھی ایک حدیث یاد آئی: ’’رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ رب العزت اس شخص کو خوش و خرم رکھے جس نے ہم سے کوئی بات سنی، پھر اس کی حفاظت کی، یہاں تک کہ اس کو دوسروں تک پہنچا دیا، اس لئے کہ بہت سے ایسے ہیں جو فقہ کی بات سن کر ایسے لوگوں تک پہنچا دیتے ہیں جو ان سے زیادہ فقیہ ہوتے ہیں، اور بہت سے فقہ کی بات سننے والے خود فقیہ نہیں ہوتے‘‘ (ترمذی، احمد)۔
حدیث کا ایک انتخابی مجموعہ ’’زاد راہ‘‘ ہے جسے مولانا جلیل احسن ندویؒ نے ترتیب دیا ہے۔اس مجموعے کا ترجمہ انگریزی میں شمیم صدیقی ؒ نے The Provision for Akhirah کر دیا، جو امریکا میں اسلامی تحریکی حلقہ میں مقبول ہے۔ انھوں نے اس کتاب کے علاوہ بارہ مزید کتا بیں (سب انگریزی میں)لکھی ہیں۔ جو امریکا میں اسلامی دعوت کی ضرورت، اہمیت، تاریخ،حکمت عملی، افراد کار کی تیاری اور نومسلموں کی تعلیم و تربیت سے متعلق ہیں۔ بلا شبہ انھوں نے اس شعبہ میں دلچسپی رکھنے والوں کے لئے ڈھیر سا مواد چھوڑا ہے۔ اور تحریک اسلامی کے کارکنان کے لئے ’’زادِ راہ‘‘ بن سکتا ہے۔ان کی آخری کتاب کا عنوان ہے ’’مسلمان ہونے کے بعد اگلا قدم (After Becoming Muslim: What Next) یہ کتاب اپریل 2017 میں شائع ہو ئی۔
اللہ تعالیٰ جس سے جو، جتنا، اور جہاں کام لینا چاہتا ہے، اس کے لئے ویسے ہی اسباب، ذرائع و وسائل پیدا کر تا چلا جاتا ہے۔ شمیم صدیقیؒ بہرائچ، لکھنو، یوپی، بھارت میں پیدا ہوئے۔نوجوانی میں ہی اسلام، تاریخ اسلام، اور شخصیات اسلام، امریکا کی تاریخ اور دستور سے واقف ہو چکے تھے، بچپن سے مطالعہ کی خوب عادت تھی۔۔ ان کے والد شیخ حفیظ اللہ ایک متقی و پرہیزگار انسان تھے۔آزادی اور تقسیم ہند کی گرم آندھی میں شمیم صدیقیؒ اپنے والد کے ساتھ مشرقی پاکستان ہجرت کر کے آگئے۔ کچھ عرصہ ڈھاکہ میں رہ کر چٹاگانگ آئے۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں شمیم صدیقی ؒ جماعت اسلامی، چٹاگانگ کے امیر تھے۔پاکستان ہجرت سے قبل انڈیا میں ہی وہ سید ابولاعلیٰ مودودی ؒ کے کام سے واقف اور1944 میں جماعت اسلامی میں شامل ہو چکے تھے۔مشرقی پاکستان میں ان کے ساتھیوں میں پروفیسر غلام اعظمؒ (جنھیں حال ہی میں حسینہ واجد نے شہید کرا دیا)، اور خرم مرادؒ وغیرہ شامل تھے۔1971 میں جب حالات بگڑنے لگے تو اپنی فیملی کو چھوڑنے اکتوبر میں کراچی آئے۔ ان کی واپسی کا ٹکٹ 5دسمبر کا تھا۔ 3 دسمبر سے پاک بھارت جنگ شروع ہوئی اور اس دوران پاکستان کے دونوں بازو کا فضائی اور سمندری راستہ کٹ گیا، یہ جدیدتاریخ کی سب سے چھوٹی جنگ تھی جو چند دنوں میں ختم ہو گئی اورتاریخ اسلامی کی پہلی فوج تھی جو اپنے 90ہزار زندہ فوجیوں کے ساتھ 16 دسمبر کو سرنڈر کر گئی۔اللہ نے شمیم صدیقیؒ کو بحفاظت رکھا اور ان مشکلات سے بچا لیا جس سے ان تمام مسلمانوں کو گزرنا پڑا جسے عرف عام میں ’’بہاری‘‘ کہا جاتا ہے۔
کراچی میں انہوں نے اسی شپنگ کمپنی کے دفتر میں ملازمت شروع کر دی جس میں وہ چٹاگانگ میں کا م کر رہے تھے اور 1976 میں اسی کمپنی کے ایک دفتر ورلڈ ٹریڈ سنٹر، نیو یارک میں ٹرانسفر ہو کر آگئے۔ نیو یارک میں اول روز سے وہ اسلام کے ایک کارکن کی حیثیت سے متحرک ہو گئے تھے۔ ان کے ابتدائی دوستوں میں امین اللہ حسینی، امر اللہ حسینی، عمر افضل (سابق قیم جماعت اسلامی ہند محمد افضل مرحوم کے صاحب زادہ)،ظفر سعید اور شمشیر علی بیگ ہیں۔
میں نیو یارک فروری 1998 میں آیا تھا۔ان سے پہلی ملاقات کب ہوئی، مجھے یاد نہیں۔لیکن میں اسی بورو (نیو یارک میں کاونٹی کے لئے بولا جاتا ہے) کوئنز (Queens) میں ٹھیرا تھا۔ میری اپارٹمنٹ بلڈنگ سے ان کا اپارٹمنٹ پندرہ منٹ کی ڈرائیو اور بس سے آدھے گھنٹے کے سفرپر تھا۔ میں ہل سائڈ جمائکا میں اور وہ فلشنگ میں رہتے تھے۔ ان کی اپارٹمنٹ بلڈنگ نیو یارک کی مشہور مسجد نیو یارک اسلامی سنٹر (جو فلشنگ کی مسجد کہلاتی ہے)سے قریب تھی۔اس علاقہ، بلڈنگ اور مسجد میں میرا اکثر جا نا ہوتا تھا۔ اسی بلڈنگ میں میرے ایک چچا سید علی اکبر(والد کے چچا زاد بھائی، ہم لوگ انھیں موتی چچا کہتے ہیں) ایک مدت گزار کر ہیوسٹن چلے گئے تھے۔ان کے ایک دوست انور ہاشمی بھی وہیں رہتے تھے جن سے ہماری دوستی بھی ہو گئی تھی۔ اسی بلڈنگ میں چچا کے اپارٹمنٹ میں میرے چھوٹے دادا 1980 کی دہائی میں کراچی سے آکر ٹھہرے تھے اور فلشنگ کی مسجد میں حالت سجدہ انتقال کر گئے تھے۔ اس طرح میں یہ کہ سکتا ہوں کہ میری امریکا کی تاریخ مجھ سے نہیں بلکہ دو نسل قبل سے شروع ہوتی ہے۔
شمیم صدیقیؒ اور ان کی اہلیہ اپنے ایک بیٹے اعجاز صدیقی اور ان کی فیملی کے ساتھ اسی بلڈنگ میں رہتے تھے۔جب ان سے ان کے اپارٹمنٹ میں ملاقات ہوئی تو ان کا پورا لیونگ روم (Living room) کتابوں سے بھرا ہوا تھا۔تمام کتابیں ایک قرینے سے شیلف میں لگی تھیں۔تفاسیر، حدیث، سیرت، تاریخ، اور اسلام کاتمام اہم لٹریچر وہاں موجود تھا۔یہ شوق ہمارا مشترکہ ہے۔ لیکن ان کے ذخائر آج بھی ہم سے کہیں زیادہ تھے۔ وہ کثرت سے مطالعہ کرتے تھے۔ اعجازصدیقی کہتے ہیں کہ وہ ایک ماہ میں تین دفعہ قرآن ختم کرتے تھے۔کثرت استعمال سے جب جلد ڈھیلی پڑ جاتی تھی تو اس کی نئی جلد بندی کراتے تھے، کم از کم تین بار جلد بندی کرا چکے تھے، ہر بار کی جلد بندی پر ہر سورۃ کے بعد چار پانچ سادہ اوراق جوڑتے تھے، جس پر وہ اس سورۃ سے متعلق اپنے نوٹس لکھتے تھے۔انھوں نے کہا کہ آخری بار جو صفحات لگائے وہ بھی ان کے نوٹس سے بھر چکا تھا۔ علامہ اقبالؒ کی شاعری سے بھی خصوصی دلچسپی تھی جو وہ اکثر درس قرآن میں موقع کی مناسبت سے سناتے تھے۔
پہلی ملاقات میں ہی انھوں نے مجھ سے میرا ’’حدود اربعہ‘‘ بہت تفصیل سے معلوم کیا اور اس ناکارہ کو بہت ’’کارآمد‘‘ سمجھ کر گفتگو کرتے رہے۔ ان کے یہاں ایک یا کئی افطار میں شامل ہونے کا موقع ملا۔ افطار کی دعوت کا ایک ہی مقصد تھا کہ ان کے ’’کام کے آدمی‘‘ کی لسٹ والوں کو بلا کر حالت روزہ میں عصر سے مغرب تک تحریک اسلامی کے لئے دماغی ورزش (brain storming)کرائی جائے۔ 2003 میں وہ اپنے بیٹے ا عجاز صدیقی اور ان کی فیملی کے ساتھ فلشنگ سے ویسٹ بری، لانگ آئی لینڈ چلے گئے تو ان سے ملاقات کا سلسلہ کم ہو گیا۔ اور اب زیادہ تر باتیں فون پر ہی ہوا کرتی تھیں۔لیکن جب وہ کو ئنز آتے اور جمائکا (اکنا مرکز) یا فلشنگ آتے اور ہمیں خبر ہوتی تو ملاقات ہو جایا کرتی تھی۔ وہ ایک با اخلاق اور بامروت انسان تھے۔
لوگ اچھے ہیں بہت دل میں اتر جاتے ہیں
اک برائی ہے تو بس یہ ہے کہ مر جاتے ہیں
لیکن حقیقت اس کے بر خلاف ہے۔
فی الحقیقت کوئی نہیں مرتا
موت حکمت کا ایک پرداہے
امریکا میں اسلام کی دعوت جو اقامت دین کا پہلا قدم ہے، شمیم صدیقیؒ اس کے لئے بہت بے چین رہتے تھے ۔اس کے لیے افراد کار کیسے تیار ہوں، اور دعوت کا کام کس نہج پر ہو، اور امریکا میں تحریک اسلامی کے کام کوکیسے آگے بڑھایا جائے، یہی ان کی تمام فکر و عمل کا محور تھا۔ جس تنظیم اسلامک سرکل آف نارتھ امریکا (ICNA اکنا)سے وابستہ تھے اس سے امید اور یاس کے بین بین چل رہے تھے۔ایک بار کہنے لگے کہ ’اقامت دین‘‘ کے مفہوم کو سمجھنے والے پورے اکنا (جو سیکڑوں افراد پر مشتمل ہے) میں ایک آدھ سے زیادہ نہیں ہیں۔ میں نے اسے ان کا ایک محض جذباتی بیان سمجھا تھا۔لیکن بعد میں اندازہ ہوا کہ ان کی بات حقیقت سے بہت دور بھی نہیں تھی۔ ایک بار (کافی عرصہ پہلے) اکنا سے چند سال کے لئے خود نکل گئے، اور کئی بار غیر فعال بھی ہوئے۔لیکن جب احساس ہوتا کہ ’’موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں‘‘ توواپس تنظیم میں متحرک ہو جاتے، لیکن پھر کچھ عرصہ کے بعد’’منجمد تالاب‘‘ کی شکایت کرتے۔
شمیم صدیقی ؒ کے اخلاق کی ایک نمایاں صفت یہ تھی کہ کبھی کسی سے ذاتی طور پر رنجش نہیں رکھتے تھے۔ ان کی ساری لڑائی دین کے خاطر تھی۔ وہ خوش ہوتے تھے تو دین کے خاطر اور ناراض ہوتے تھے تو دین کے خاطر۔انھیں اپنے ذاتی معاملہ پرکبھی غصہ نہیں آتا تھا۔ انھوں نے از خود افراد کی تیاری کے لئے بچوں اور نوجوانوں کی کلاسیز مختلف زمانوں اور اوقات میں منعقد کیں۔ کتنے ہی نوجوان اس علاقہ میں ہیں جو ان کے شاگرد رہے ہیں، اور ان کی شخصیت کا ان پر گہرا اثر ہے۔ انھوں نے اسلامک سنٹر فلشنگ میں درس قرآن کا سلسلہ شروع کیا تھا، اسی طرح بے شور (Bayshore)، لانگ آئی لینڈکی مسجد دارالقرآن اور اسلامک سنٹر آف لانگ آئی لینڈ میں بھی دروس کا سلسلہ شروع کیا۔ ان کے گھر پر بیرون ملک سے کئی رسائل اور جرائد آتے تھے۔ زندگی نو(نئی دہلی)،میثاق، اور حکمت قرآن(لاہور) اور مسلم ورلڈ بک ریویو (لندن) پابندی سے ان کے پاس آتا تھا۔ کئی بار میں نے سہ روزہ دعوت دہلی ان کے پاس دیکھا۔ ریڈینس ویکلی (دہلی)وہ انٹرنیٹ پر پڑھتے تھے۔
کینیڈا ہجرت کے بعد جب میں پہلی بار نیو یارک گیا غالباً 2011میں، اور انھیں یہ اطلاع دی کہ میں اکنا کینیڈا کا رکن (Member of General Assembly-MGA))بن گیا ہوں تو وہ خوش نہیں ہوئے۔ کہنے لگے تمہارے پاس جو ideasہیں اس پر کام کرو اور اکنا کا دامن چھوڑ و۔مجھے سن کر افسوس ہوا ۔کیونکہ یہ ایک ایسے عظیم تحریکی کارکن کی بات تھی جواپنی حجت تمام کرتا ہے۔اکنا کے امراء کو خط لکھنا، ان کی ذمہ داری اور اصل کام کی نوعیت کا احساس دلانا، اور پھر اس کا مستقل فالو اپ کرنا، خط کا جواب حاصل کرنے کی کوسش کرنا، ان کی عادت تھی۔ مجھے ایسا لگا کہ وہ مسلسل ایک زمانہ سے نظر انداز ہو رہے ہیں۔ انھیں نائن الیون کے بعد کے امریکا میں کچھ زیادہ ’’محتاط‘‘ قیادت سے سامنا پڑا تھا۔شمیم صدیقی ؒ کے مطابق اکنا اپنے اصل کام کو بھول کر اور چھوڑ کر بہت دور نکل چکی تھی۔ وہ ’’کرنے کے کام‘‘ کو چھوڑ کر ’’نہ کرنے کے کام‘‘ میں لگ چکی تھی۔وہ رضاکاریت(Volunteerism) کو چھوڑ کر پیشہ ورائیت(Professionalism) کی طرف چلی گئی ہے۔
تاہم وہ نظم کی ہمیشہ پابندی کرتے تھے، جب تک صحت اجازت دیتی رہی وہ اکنا کی میٹنگز میں شریک ہوتے رہے۔
شمیم صدیقیؒ ، دعوتی، تبلیغی، تربیتی خطوط لکھنے کے ماہر تھے، وہ اسلامی تنظیموں کے سربراہان اور کارکنان سے لے کر امریکا کے صدور تک اپنا ذاتی خط روانہ کرتے تھے۔امریکا کے صدور کی طرف سے انھیں جوابی رسید بھی ملتا تھا۔ وہ ڈینیل پائپ جیسے کٹر اسلام دشمن مصنفوں کو بھی خط لکھ کر اسلام کی دعوت دیتے تھے۔ وہ گورے، کالے، سانولے، اور گندمی ہر نسل کی اسلامی قیادتوں سے براہ راست رابطہ میں تھے، بے شمار مقامی اسلامی رہنماوں کو اپنے خیالات سے متاثر کیا اور انھیں تحریک اسلامی کا مفہوم سمجھایا، صحیح تصور دین بتا یا اور اصل کرنے کے کام پر توجہ دلائی۔ نیو یارک میں اماموں کی مجلس الشوریٰ، انہیں کی کاوشوں کا ایک ثمر ہے۔امام لطیف الامین، امام سراج وہاج، امام طالب الرشید، امام ابراہیم، امام یاسین، ڈاکٹر خورشید خاں وغیرہ اس کی گواہی دیں گے۔ چند سال قبل اکنا امریکا کی قیادت میں تبدیلی آئی اور جناب جاوید صدیقی صاحب نئے امیر اکنا بنے اور وہ شمیم صدیقی صاحب سے ملاقات اور عیادت کے لئے ان کے گھر گئے تو ان کے دل میں امید کے نئے چراغ جل اٹھے۔انھوں نے اصل ’’کرنے کے کام‘‘ اور کیسے کرنے سے متعلق دو یا چار صفحات پر مشتمل ایک خاکہ تیار کر کے پیش کیا اور اس کے لئے فالو اپ عین بیماری کی حالت اور صاحب فراش ہونے کے باوجود مستقل کرتے رہے۔ میری جو آخری دو ملاقاتیں (گزشتہ دو سالوں میں) ہوئی ہیں اس میں انھیں اسی امید کے چراغ کے لو میں دیکھا۔
امیر اکنا یوایس اے محترم جاوید صدیقی صاحب سے ان کے انتقال کے بعد فون پر بات ہوئی تو انھوں نے کم از کم ان کی ایک کتاب کے مکمل مطالعہ کا اقرار کیا۔ ان کی اس آخری کتاب پر جس پر انھیں دیباچہ لکھنے کے لئے کہا گیا تھا۔ شمیم صدیقیؒ صاحب کا اپنی کتاب کیلئے ان سے دیباچہ لکھوانا ہی ان کے نزدیک ’’کام کے آدمی‘‘ ہونے کا سرٹیفیکیٹ ہے۔ میں محترم امیر اکنا (دونوں جانب امریکا اور کینیڈا)سے یہی درخواست کروں گا کہ شمیم صدیقیؒ کی دی ہوئی مشعل کو مضبوطی سے پکڑیں اور اسے امریکی اور کینیڈین عوام کے لئے سرچ لائٹ بنائیں۔
پبلک مقامات پر دعوتی ٹیبل لگوانا غالباً انھیں کا آئیڈیا تھا۔ لیکن وہ بعد میں اس بات کے قائل ہو گئے تھے کہ ہمیں گھر گھر پہنچ کر امریکی عوام کو دعوت دینی چاہئے۔ جس طرح تبلیغی جماعت مسلم گھروں میں تبلیغی گشت کرتی ہے، اکنا غیر مسلم گھروں میں گشت لگائے اور اس کام کے لئے تعلیم و تربیت سے افراد کار تیار کرے۔وہ منصوبے بناتے رہنے کے بجائے عملی میدان میں اتر کر تجربات کرے۔ شمشیر علی بیگ کہتے ہیں کہ شمیم صدیقی مرحوم ایک عملی اور متحرک شخصیت تھے۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے ان کے ساتھ امریکا میں بہت سفر کیا، یہ دعوتی دورے بھی تھے اور مطالعاتی و مشاہداتی بھی۔انھوں نے کہا کہ ’’وہ اپنی دھن کے پکے تھے‘‘۔
یہاں ایک بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ تحریک اسلامی میں قیادت کے لئے واحد معیا ر ’’تقریری صلاحیت‘‘ بن چکا ہے، اس سے جماعتوں کا معیار بہت متاثر ہوا ہے۔جب کہ تحریک اسلامی کو تقویٰ کے اعلیٰ معیار، علمی ، فکری، نظریاتی بلندی اور انتظامی صلاحیت والے افراد درکار ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں شمیم صدیقیؒ کی تقریری، زبانی و ابلاغی صلاحیت کمزور تھی، اس کے علاوہ وہ ہر پہلو سے بہترین تھے۔ تقریری اور بیانی پیش کش کی کمزوری کے باعث وہ کبھی قیادت کی پوزیشن پر نہ آئے اور نہ اپنی باتوں کو منوا سکے۔
میں شمیم صدیقیؒ سے ’’عوامی دعوت‘‘ کی’’ترجیح‘‘ پر کچھ (معمولی) اختلاف رکھتا تھا۔ میری رائے یہ ہے کہ ہمیں مقتدر اور بااثر طبقات کو اسلام کی دعوت سب سے پہلے پہنچانی چاہئے اور ان پر کچھ عرصہ توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔ میں اسے دعوۃ ٹو پاور(Dawah to Power) کہتا ہوں۔ انبیا کا یہی طریقہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیؑ کو مقدس وادی طویٰ میں پکار کر کہا کہ’’فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے، اور اس سے کہہ کیا تو اس کے لئے تیار ہے کہ پاکیزگی اختیار کرے اور میں تیری رہنمائی کروں تو(اس کا) خوف تیرے اندر پیدا ہو‘‘؟ (سورۃ النّٰزعٰت)۔ موسیؑ نے سب سے پہلے فرعون اور اس کے وزرا کے سامنے دعوت رکھی، اور انھیں اللہ کی نشانیاں دکھا ئیں۔ نہ کہ فرعون کی رعایا، اور بنی اسرائیل کے پاس (میری مراد اولین مخاطبین سے ہے)۔اسی طرح محمد رسول اللہ ﷺ نے بھی سب سے پہلے سرداران قریش کو بلا کر دعوت دی۔دیگر انبیا کی سیرت میں بھی ہمیں یہی منہج (methodology) ملتا ہے۔
شمالی امریکا میں با اثر طبقہ سے میری مراد؛ صدر، وزیراعظم، تمام سیاست داں، ہر سطح کے عوامی نمائندگان، بیروکریسی کے اعلیٰ حکام، فوج (افسران)، اور عدالتی حکام، ہر سطح کے تعلیمی اداروں کے تمام اساتذہ اور تعلیمی منتظمین، اور پروفیشنل طبقہ جیسے ڈاکٹرز، وکلا، وغیرہ۔ ا ن طبقات کے لئے خصوصی اسلامی لٹریچر تیار ہو۔یہاں مسلم کمیونٹی کو اب پڑھنے کی عادت نہیں رہی لیکن امریکی قوم اب بھی خوب کتابیں پڑھتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں پہلے مرحلے پر رسول اللہ ﷺ کی سیرت پر اعلیٰ معیاری کتابیں تقسیم کرنی چاہئے۔اس وقت سیرت پر مہیا انگریزی میں کتابیں انتہائی ناکافی ہیں۔ہمیں سیرت کے ہمہ جہتی پہلو کو اجاگر کرنا ہوگا۔آپ ﷺ کی زندگی کو اس طرح پیش کیا جا ئے کہ ایک سیاستداں کو، ایک افسر کو، ایک فوجی جرنیل کو، ا یک جج کو، ایک استاد کو، ایک ڈاکٹر، اور ایک وکیل کو آپ ﷺ کی زندگی کی جگمگاتی روشنی کی کرنیں صاف نظر آنے لگیں، اور ان کی زندگی سے نکلتی ہوئی محبت کی خوشبو وہ محسوس کر لیں۔
تاہم تبلیغی جماعت کے طرز پر غیر مسلموں میں عوامی رابطہ کے ذریعہ دعوت دین کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ان دونوں کاموں کے لئے دو طرح کے افراد کار، اور دو طرح کی تنظیم یا ایک تنظیم کے مختلف شعبہ چاہئے۔
پہلی نوعیت کے کام کے لئے میرے مطابق اس کے لئے ایک سیاسی پلیٹ فارم چاہئے، او ر دوسری کے لئے ایک اشاعتی پلیٹ فارم۔ اگر اللہ نے مجھے حیات،اقبال، صلاحیت، اور وسائل دئے تو اس کے لئے میں اپنی بساط بھر جو کوسش کر سکتا ہوں، ان شا ء اللہ ضرور کروں گا۔ شمیم صدیقیؒ نے ہر ملاقات پر جو ’’تاکیدی‘‘ جملے کہے ہیں اس کی آواز بازگشت کانوں میں گونجتی رہے گی۔
میرے نزدیک دعوت اسلامی کا کا راستہ امر بالمعروف اور نہی عنی المنکر (بھلائی کا حکم اور برائی سے روکنا)کے فریضہ سے شروع ہوتا ہے، جس کی قرآن اور احادیث نے سختی کے ساتھ تاکید کی ہے۔ ابراہیم ؑ نے برائیوں کے مرکز بت خانہ کے بتوں کو توڑ کر دعوت کی بنیاد رکھی۔موسیؑ کی زندگی غلامی کے خلاف جدوجہد سے عبارت ہے۔شعیبؑ نے ڈنڈی مارنے والے لوگوں اور تجارتی کرپشن کے خلاف آواز اٹھائی۔لوطؑ کی دعوتی جدوجہد کا ارتکاز ہی اس بات پر تھا کہ وہ اپنی قوم کو کس طرح ہم جنس پرستی کی لعنت سے نکالیں۔محمد رسول اللہﷺ نے قریش کے ظلم، شقاوت اور بے رحمی کو جس میں وہ معصوم بچیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے، کو مخاطب کیا۔اللہ نے رسول اللہ ﷺ کو اعلان کرنے کے لئے کہا کہ ’’زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی۔‘‘
شمالی امریکا میں تیزی سے پھیلتی ہوئی جنسی اباحیت، ہم جنسی پرستی، جنسی انحراف  و ارتداد، سود، اور خون نچوڑنے والاسرمایہ دارانہ نظام، امریکا کے عالمی سطح پر ڈھائے جانے والے مظالم،بڑے پیمانے پر کئے جانے والے قتل عام، ملکوں پر بمباری، انسانی جانوں کا ضیاع اور مکانات کی مسماری، دسیوں لاکھوں انسانوں کی آبادی کا انخلاء ، ان اشوز پر بات کئے بغیر دعوت کے لئے گفتگو کی فضاء سازگار نہیں ہوگی۔اور یہی کام بڑے کلیجے والوں کا کام ہے، بڑے دل گردوں والے کا کام ہے۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی ؒ کہتے تھے کہ یہ کام بزدلوں کا نہیں ہے۔اگر ڈر لگتا ہے اور ہول آتا ہے تو اس کام کی جانب مت آوُ۔لیکن دوسری طرف یہ بھی دیکھ لو کہ خدا کی عدالت عنقریب لگنے والی ہے اس موقع پر ہمارا ’’جواب‘‘ کیا ہوگا۔موت ایک دن آنی ہے جس کا وقت متعین ہے، بستر علالت پر ایڑیاں رگڑ کر مرو یا برائیوں کے خلاف جدوجہد میں مرو۔ ان دونوں ٹائپ کی موت میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ رزق کی مقدار بھی متعین ہے جسے حاصل کئے بغیر کسی انسان کو موت نہیں آئے گی۔ اب اس انسان پر منحصر ہے کہ وہ اسے حرام ذریعہ سے حاصل کرے یا حلال ذرائع سے۔
شمیم صدیقیؒ کو نہی عنی المنکر کے فریضہ کا موقع اس وقت بہتر انداز میں ملا جب وہ امریکا کی تاریخ کے ایک اہم ترین موقع پر مسلمز ویکلی، نیو یارک میں کالم لکھ رہے تھے۔ الحمد للہ ہم سب لوگوں نے خوف کو دل میں کوئی جگہ نہیں دی۔
انھوں نے ایک ’’فورم فار اسلامک ورک‘‘ بھی قائم کیا تھا، اسی کے تحت انھوں نے اپنی کتابیں بھی شائع کیں۔ ان کتابوں کو وہ مفت تقسیم کرتے تھے ان کے ’’کام کے لوگوں‘‘ کی لسٹ پر سب کو کتاب بذریعہ ڈاک بھیج دی جاتی تھی۔ڈاک خرچ بھی وہ اپنی جیب سے ادا کرتے تھے۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنا بڑا وقت اپنی کتابوں کی تصنیف پر بلا ضرورت لگایا ۔ جب کہ ان کے صاحب زادے اعجاز صدیقی کہتے ہیں کہ درحقیقت انھوں نے اپنی کتابیں آنے والی نسلوں کے لئے لکھی ہیں۔آنے والی نسل ان کو بہتر طور پر سمجھ سکے گی۔ ان کی ایک آنکھ 35 سال قبل ضائع ہو گئی تھی اور دوسری آنکھ سے بھی کم نظر آتا تھا۔ لیکن وہ ایک لمحہ بھی ضائع نہیں کرتے تھے۔ وہ قلم کاغذ رکھ کر سوتے تھے۔ سوتے میں کوئی نکتہ ہاتھ آتا، اٹھ کر وہ فوراً لکھ لیتے تھے۔ اس کے بعد کمپیوٹر پر بیٹھ کر تیزی سے لکھتے جاتے تھے۔سید ابواعلیٰ مودودی ؒ نے ان سے کہا تھا کہ تم لوگ امریکا میں وہاں اپنے حالات اور وہاں کی تاریخ اور لوگوں کی نفسیات کے مطابق اپنا لٹریچر تیا ر کرو۔ اور شمیم صدیقیؒ نے یہ بات گرہ میں باندھ لی تھی۔ دراصل میرے نزدیک ان کی کتابوں کے مخاطبین نارتھ امریکا کے اسلامی قائدین، داعیان اسلام اور اسلام میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانان ہیں۔ 
شمیم صدیقی ؒ حالات حاضرہ پر بہت گہری نگاہ رکھتے تھے۔ وہ روزانہ نیو یارک ٹائمز جیسے ضخیم اخبار کا تقریباً ہر صفحہ (اسپورٹس اور دیگر تفریحات کو چھوڑ کر) پڑھتے تھے۔وہ حالات حاضرہ کے واقعات، اور سائنس کے نئے ایجادات پر اپنی قرآن فہمی کے مطابق تجزیہ اور تبصرہ کرتے تھے۔قرآنی اور اسلامی تناظر میں حالات حاضرہ کا جائزہ بہت مشکل کام ہے، اس شعبہ میں اب بھی بہت کم افراد ہیں۔
سن 2000 میں پہلے ہی ہفتے سے ہم نے نیو یارک سے انگریزی اخبار ’’مسلمز ویکلی‘‘ کا اجرا کیا۔ یہ بڑے سائز کااخبار تھا اور روزنامہ کے طرز پر ہفت روزہ نکلتا تھا۔ جمعہ کی نماز سے قبل نیویارک، نیو جرسی، اور لانگ آئی لینڈ کی تمام مساجد اور گروسری اسٹورز پر مفت تقسیم کے لئے چلا جاتا تھا۔اس کے ادارتی صفحہ پر میں نے ان سے ایک کالم مستقل لکھنے کی درخواست کی جسے انھوں نے بخوشی قبول کر لیا۔ اپریل 2006 میں اس کے آخری شمارہ تک وہ پابندی سے کالم لکھتے رہے۔ اکثر ان کا کالم اداریہ بنا کر لگا دیتا تھا۔اس کے علاوہ کبھی خالد فاروقی مرحوم اور کبھی میرا کالم اداریہ بن جاتا تھا۔ تو تقریباً چھ سال سے کچھ اوپر ہم نے ان کو حالات حاضرہ کے مضامین سے اسلام کی قلمی دعوتی محاذ پر لگائے رکھا۔ وہی کالم وہ ریڈینس ویکلی، دہلی کو بھی بھیج دیا کرتے تھے۔ ان کی فیملی کے افراد گواہی دیں گے کہ ان کی زندگی کا یہ بہترین مشغلہ تھا۔وہ اس اخبار کے اجرا سے بہت خوش تھے۔ انھیں 2004 میں نیو یارک انڈی پنڈنٹ پریس ایسوسی ایشن کی طرف سے ان کے ایک اداریہ کو بہترین اداریہ کا دوسرا یا تیسرا مقام ملا تھا۔ ان کی دعائیں میرے ساتھ تھیں۔مجھے بھی کئی ایوارڈ ز ملے تھے۔لیکن میرے نزدیک اس کی کوئی حیثیت نہیں، میرے لئے تو ان کا ایک جملہ ایسے ہزاروں ایوارڈ سے زیادہ اہم ہے کہ جب انھوں نے کہا کہ’’تم لوہے کے وہ سخت چنے ہو جسے تمہارا دشمن کبھی چبا نہیں سکے گا۔ تمہیں کوئی خرید نہیں سکے گا۔‘‘
امام نسیم مرحوم نے ایک بار کہا کہ میرے دو پسندیدہ اخبار ہیں؛ ایک ریڈینس (دہلی) اور دوسرا تمہارا اخبار ’’مسلمز ویکلی‘‘۔بلکہ تمہارا اخبار ’’مسلمز ویکلی‘‘ میرا زیادہ پسندیدہ اخباربن چکا ہے۔‘‘ بزرگوں کے الفاظ اور جملوں کے یہی تمغات ہیں جو میرے پسندیدہ ہیں اور اسی کی سجاوٹ پر میں فخر محسوس کرتا ہوں۔۔ کہ یوم آخرت ان بزرگوں کی گواہیاں کام آجا ئیں۔اور بقول شمشیر علی بیگ، شمیم صدیقی تو جنت کے وارثین میں سے تھے، خدایا! ہمیں بھی جنت کے وارثین کے لسٹ میں شامل کر لے۔آمین۔
اخبار کے بند ہونے کا شمیم صدیقی ؒ کو بہت قلق تھا۔ لیکن حالات اور واقعات ان کے سامنے تھے، اس لئے انھوں نے کوئی شکایت نہیں کی۔ ہفت وار لکھنے کا سلسلہ اور ان کا ایک اہم مشغلہ ختم ہوا۔ان کے ایک تواتر سے لکھنے کا، کالم نویسی کا دور ختم ہوا۔البتہ انھوں نے اپنے لائق اولادوں کی مدد سے اپنے تمام مضامین اور کتابیں ویب سائٹ پر ڈال دی تھیں

 جو dawahInAmericas.com پر موجود ہیں۔
شمیم صدیقی ؒ ، عمر میں میرے والد سے بھی بڑے تھے۔لیکن ہم بہت بے تکلف تھے۔ تحریک اسلامی کی یہی خوبی ہے کہ اس میں ہمیں حضرت عمرؓ اور عبداللہ ابن عباسؓ ایک ساتھ بیٹھے نظر آتے ہیں۔شمیم صدیقی مرحوم اسی روایت کے امین تھے۔ مجھ سے بھی بہت چھوٹے ان کے دوست تھے۔ جب بھی ان سے بات ہوئی یا ملاقات ہوئی میری معاش کے حوالے سے بہت فکر مند ہوتے تھے۔ویکلی اخبار کی مشکلات سے وہ واقف تھے۔ جب انھوں نے ہمیں’’ لوہے کا چنا‘‘چباتے ہوئے عملاً دیکھا تھا۔ انھوں نے زندگی کے کئی مراحل پر سختیاں دیکھی تھیں اس لئے وہ اس حوالے سے دوسروں کے لئے حساس تھے۔جماعت کے اندر بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ایک مرحلہ پر آکر جماعتی عصبیت کا شکار ہو جاتے ہیں، اور خدا پرستی کے بجائے’’جماعت پرستی‘‘ کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔ وہ آس پاس اپنی جیسی تنظیموں، اور مختلف شعبہ میں اپنے ہم خیال لوگوں کی کا وشوں کو بھی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ بلکہ ایک طرح سے ان کا معاندانہ اور مخالفانہ اپروچ ہوتا ہے، اور دوسروں کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ بلکہ بعض ظالم تو اپنے سے ذرا باہر کے لوگ کو ’’ایجنسیوں کا ایجنٹ‘‘ کہنے میں بھی تکلف نہیں کرتے۔ جب معاشرہ میں بزدلوں کی تعداد بڑھتی ہے تو، اظہار جرأت والا ’’ایجنٹ‘‘ نظر آنے لگتا ہے۔ میں ذاتی طور پر بھی ان تجربات سے گذر چکا ہوں۔ انھیں احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ بدگمانیوں اور غیبتوں کی کیسی اور کتنی آگ جمع کر رہے ہوتے ہیں۔ لیکن شمیم صدیقی ؒ کبھی ان ’’بیماریوں‘‘ میں مبتلا نہیں ہوئے۔حق پرستی، وسیع النظری، وسعت قلبی، اور تواضع ان کی شان تھی۔ان کے یہاں زندگی درد محبت کے سوا کچھ بھی نہ تھا۔
جماعت کا کردار تو ایسی ماں کا ہونا چاہئے جو اس گھر سے باہر رہنے والے بچوں سے بھی ویسی ہی محبت کرتی ہے جیسی کہ گھر کے اند ر رہنے والوں بچوں سے۔جماعت کو تو موسم بہاراں کی مانند ہونا چاہئے اور بہار کی نظر میں تو پھول اور کانٹے بھی برابر ہوتے ہیں۔
تحریک اسلامی کے داعیوں کے حوالے سے اکثر یہ کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی فیملی کو نظر انداز کر دیتے ہیں یا اس کا موقع ان کو نہیں ملتا۔ لیکن شمیم صدیقیؒ اس حوالے سے مختلف تھے۔ وہ اپنے بچوں پر بہت توجہ دیتے تھے۔ وہ اپنے گھر میں اپنی فیملی، اپنے بچوں اور ان کے بچوں کو ساتھ بٹھا کر درس قرآن دیتے تھے۔ ان کے ایک بیٹے جاوید صدیقی (موجودہ امیر اکنا یو ایس اے نہیں) اکنا کے رکن ہیں، کہتے ہیں کہ ہمارے گھر پر پابندی سے درس قرآن ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ مہینے میں پوری فیملی ، ان کی اولادوں کی اولادیں اور دیگر قریبی عزیزوں کے ساتھ ماہ میں ایک درس قرآن ہوتا جس میں تعداد 60 سے 70 ہو جایا کرتی تھی۔ کبھی جا نہیں پاتے تو ٹیلفونک درس قرآن دیتے۔ جاوید صدیقی کہتے ہیں کہ وہ دو باتوں کی مسلسل تاکید کرتے تھے کہ نماز کبھی مت چھوڑو اور قرآن جتنا پڑھ سکو روز پڑھو۔
وہ چار بیٹے (جاوید صدیقی، طلحہ ندیم صدیقی، اعجاز احمد صدیقی، طارق عدیل صدیقی، اور دو بیٹیاں (فرزانہ تحسین اور صوفیہ تنویر)، اور ماشاء اللہ کثرت سے (تقریباً 30)پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں چھوڑ کر گئے ہیں۔اور ایک بڑی اسلامی جماعت انھوں نے گھر میں ہی تشکیل دے دی ہے۔ ان کی نماز جنازہ اسلامک سنٹرآف لانگ آئی لینڈ، ویسٹ بری میں پڑھائی گئی، اور واشنگٹن میموریل قبرستان کے مسلم والے حصہ قبرستان میں مدفون کر دیئے گئے۔
اس وہم سے کہ نیند میں آئے نہ کچھ خلل
احباب زیر خاک سلا کر چلے گئے
۔۔۔۔۔
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے 
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
jawed@seerahwest.com

 

Sarwar Bakhteyar

BISMILLAH Assalam o alaikum Jawed bhai, with apologies, for giving a late feedback. First, his death is reminder for all of us about the the temporal existence we have in this place and the fact that we all have to return back to our CREATOR one day. Additionally, i do like to mention that back in the days when i was learning about Islam, dawah and its process, shamim uncle was the one who inspired me to read about current affairs, news, edotorials, etc. and afterwards to examine them from an islamic perspective, an exercise that i initially struggled with only to later find the fruits it contained. Moreover, when i look back at the time we spent in his company, i cannot but admire the politeness he always show mash'ALLAH, in group or one on one discussions, even if the discussion was heated. May ALLAH(SWT) forgive his sins and reward him immensely for his good deeds and positive contributions.

محمد ا س شہزاد

انا للہ وانا الیہ راجعون

Burhan Ul Haq

AsSalam o Alekum Anwer Sb, Thanks for portraying such an amazing personality and a Beacon Figure. Very informative MashaAllah. Jeza'k Allah Khairun

Khalid zabeehullah

خدا رحمت کند ایم عاشقان پاک طینت تا آمین

Omar afzal

Shukriya

Your Comment