و رفعنا لک ذکرک محمدﷺ

February 21,2019, ,Weather : °

Fajr:, Dhuhr:, Asr:, Maghrib:, Isha:

جرنیلی ملوکیت

26 Dec 2017
 جرنیلی ملوکیت

سید جاوید انور

اشاعت اول جسارت ادارتی صفحہ 25 دسمبر  2017

http://www.jasarat.com/2017/12/25/171225-04-8/

   و جسارت ادارتی صفحہ 26 دسمبر  2017

http://www.jasarat.com/2017/12/26/171226-04-4/

 

(نوٹ :اس کالم کا پہلا حصہ میاں نواز شریف کی نااہلی کے  فوراً بعد لکھا گیا تھا، جب کہ اس کا آخری دو حصہ حال میں لکھا گیا ہے۔اور تینوں حصہ کو یکجا کر کے شائع کیا جا رہا ہے)

نواز شریف کی نااہلی کے بعد امریکی میڈیا اور مقتدر حلقوں کی طرف سے جتنے تجزیے سامنے آئے ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان میں اس معمولی حکومتی تبدیلی پر یہاں کوئی تشویش نہیں ہے۔ کیونکہ سب کو معلوم ہے کہ اصل مقتدرملوک فوج ہے اور فوج سے معاملات کم و بیش درست چل رہے ہیں (یا تھے)۔گاہے گاہے فوج کو دی جانے والی امریکی امداد کچھ عرصہ کے لیے روک لی جاتی ہے، جیسا کہ 500 ملین ڈالر کی فوجی امداد جس کا مالی سال اکتوبر 2016 میں ختم ہوا ہے فی الوقت روک لی گئی ہے۔ اس کی وجہ صرف یہ ہے کہ خدمت بجا لانے میں ’’کوتاہی‘‘ کو دور کیا جا سکے۔ اور رکاوٹ بننے والی ہر قوت کا صفایا کیا جائے اور مقاصد کے حصول کو یقینی بنایا جائے۔
معروٖف صحافی عبدلکریم عابد مرحوم نے اپنی سوانح عمری ’’سفر آدھی صدی کا‘‘ میں لکھا ہے کہ جب انگریزوں نے ہندوستان چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا تو سب سے زیادہ تکلیف فوجی اور سول بیوروکریسی (ہندو مسلم دونوں) کو تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے انگریزی حکومت کی خدمات میں آخر کون سی کوتاہی چھوڑی ہے کہ وہ ہمیں چھوڑ کر جا رہا ہے۔ لیکن زمینی حقائق یہ تھے کہ دوسری جنگ عظیم نے تمام متحارب قوتوں کا سورج غروب کر دیا تھا۔ اور برطانیہ نے امریکی امداد کے عوض ہمیں بیچ دیا تھا۔ اور اس نئے ملک کا اقتدار اسی فوجی اور سول بیوروکریسی کے حوالے کیا گیا جس کی خدمات بے مثل تھیں۔ اور جس نے انگریز وفاداری کی بہت اچھی تاریخ رقم کی تھی۔

پاکستان فوج کی پہلی تنخواہ امریکا سے آئی (یہ انفارمیشن 50 سال کے بعد ڈی کلاسیفائیڈ ہو چکی ہے)۔ اور پاکستان اول روز سے امریکی فوجی معاہدات میں جڑا ہوا ہے۔ نئے پاکستان میں جتنی سیاسی جماعتیں بنیں ان کی تشکیل میں سول اور فوجی بیوروکریسی شامل تھی۔ سوائے جماعت اسلامی کے (جس کی تشکیل آزادی اور تقسیم سے قبل 1941 میں ہو چکی تھی) نئے پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں بیورو کریسی اور جرنیلی ملوک کے بطن سے ہی پیدا ہوئیں ہیں۔ اور ان سب کا واحد مقصد جماعت اسلامی کا راستہ روکنا تھا۔ اس کا مقصد پاکستان کو اسلام کی منزل سے بھٹکا دینا تھا۔ 1955 میں انہیں مقتدر قوتوں نے ’’ریپبلکن پارٹی‘‘ تشکیل دی۔ پارٹی کا یہ نام اس لیے رکھا گیا کیونکہ ان کے نئے آقا امریکا میں ’’ریپبلکن پارٹی‘‘ ہی برسر اقتدار تھی۔ غلام اپنے آقا کی ہر ادا کو نقل کرتا ہے اس میں اتنی عقل بھی نہیں ہوتی کہ نقل میں کچھ جدت ہی کر لے۔ اسی ریپبلکن پارٹی نے مشرقی اور مغربی پاکستان میں ناانصافی کا بیج بویا تھا جس کی فصل 1971 میں بنگلا دیش کی شکل میں کاٹی گئی (آبادی کے بجائے مشرق اور مغرب دو یونٹ کی بنیاد پر پارلیمانی سیٹ اور معاش کی تقسیم کی گئی اور اس کے باوجود مشرقی پاکستان سے عوامی لیگ نے اکثریت حاصل کر لی تب بھی اسے اقتدار نہیں دیا گیا)۔

اسلامی نظام کا مطالبہ اور اس کے لیے عوامی خواہش زور پکڑنے لگی۔ جماعت اسلامی کراچی کے پہلے بلدیاتی الیکشن میں اکثریت حاصل کر چکی تھی اور ہوا کا رخ مقتدر طبقہ کے خلاف بہنے لگا تھا۔ برطانوی ملٹری اکیڈمی کے تعلیم یافتہ فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خاں، جو دوسری جنگ عظیم میں برطانوی انڈین فوج میں کرنل تھے، اور شامل جنگ تھے، ان کو پاکستان کی سربراہی کے لیے چن لیا گیا۔ اس وقت کے صدر اسکندر مرزا (ریپبلکن پارٹی) کی مدد سے نئے آقا امریکا کے حکم پر جنرل ایوب خاں نے 1958 میں ریپبلکن پارٹی ختم کر کے مارشل لا لگا دیا۔ ہر مارشل لا ایڈمنسٹریٹر کو اپنے چہرے پر جمہوریت کا مصنوعی غازہ بھی اچھا لگتا ہے۔ چنانچہ ایوب خاں نے بھی ایک باوردی سیاسی پارٹی ’’پاکستان مسلم لیگ‘‘ بنائی۔ یہ اسم جماعت (مسلم لیگ) اب تک کی تمام جرنیلی ملوک کی داسی رہی ہے۔

اس وقت تک کشمیر مجاہدین کی مدد سے آزاد کرایا جا سکتا تھا۔ لیکن برطانیہ اور امریکا کی طرف سے اس کی اجازت نہیں تھی۔ برطانیہ کشمیر میں جو لائن کھینچ گیا ہے، اس سے انحراف کی کسی میں جرات نہیں تھی۔ 1965 میں بھارتی حملے کے جواب میں پاکستانی افواج اور عوامی اتحاد نے نہ صرف بھارت کو پسپا کر دیا تھا بلکہ پیش رفت بھی کی تھی۔ لیکن اس جنگ کو بھی امریکی حکم کے تحت جرنیلی ملوکیت کے شاہ جنرل ایوب خاں نے مذاکرات کی ٹیبل پر لا کر پاکستان کو ہروا دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو، جنرل ایوب خاں کو ڈیڈی کہا کرتے تھے۔ وہ اس وقت ملک کے وزیرخارجہ تھے۔ بھٹو مرحوم نے نئی پارٹی ’’پاکستان پیپلز پارٹی‘‘ بنا کر شکست کے بعد کی ’’عزت نفس‘‘ کے کارڈ کو اور بعد میں مہنگائی کے کارڈ کو کامیابی سے کھیل کر جنرل ایوب خان کی حکومت کے خاتمہ کا باعث بنے۔ مشرقی پاکستان میں ایسی ہی تحریک کی قیادت مجیب الرحمٰن (نئی پارٹی ’’عوامی لیگ‘‘) کر رہے تھے۔ اس وقت تک جنرل ایوب خاں امریکا کے ڈارلنگ نہیں رہے تھے کیونکہ وہ اب امریکا کو ’’فرینڈ ناٹ ماسٹر‘‘ (دوست نہ کہ آقا) کہنے کی جرات کرنے لگے تھے۔ اور انہیں اپنی فوجی وردی میں آزادی کے کچھ پر لگانے کا نیا شوق جاگا تھا۔

ایوب خاں کے بعد جرنیلی ملوکیت جنرل یحییٰ خاں کے ہاتھ میں آئی۔ جس نے پاکستان کو 1971 کی پاک بھارت جنگ میں ایسی ذلت آمیز شکست سے دوچار کیا جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ پہلے مسلم فوج یا تو غازی ہوتی تھی یا شہید، لیکن ایمان، تقویٰ اور جہاد کا موٹو رکھنے والی یہ فوج 90 ہزار نفری کے ساتھ سرینڈر کر گئی۔ مشرقی پاکستان کو بنگلا دیش بنا کر پاکستان سے نکال کر انڈیا کے کنٹرول میں لینے کا فیصلہ پہلے امریکا میں اور اس کے بعد جی ایچ کیو راولپنڈی میں ہوا۔ اس پر کتابیں شائع ہو چکی ہیں، اور حقائق سامنے آچکے ہیں۔ وہ قوتیں جو امریکی اور بھارتی ایجنڈے پر کام کر گئے، وہی قوتیں حمود الرحمٰن کمیشن (جو سقوط مشرقی پاکستان کی وجوہ معلوم کرنے کے لیے قائم کی گئی تھی) کی مکمل رپورٹ کو منظر عام پر لانے میں رکاوٹ بن گئیں۔ تاہم جتنی رپورٹ لیک ہوئی اس سے معلوم یہ ہوا کہ پاکستان کی تقسیم میں پاکستان کے فوجی جرنیلوں اور فوجی ایجنسیوں کا رول نمایاں تھا (حمود الرحمن کمیشن رپورٹ، وکی پیڈیا)۔

ذوالفقار علی بھٹو اور مجیب الرحمن امریکا اور فوج کے دو ایسے سیاسی مہرے تھے جنہوں نے ماسٹر پلان (تقسیم پاکستان) کے مطابق عمل کیا۔ دونوں کا مقصد زندگی وزارت عظمیٰ کا حصول تھا۔ انہیں اس کی گارنٹی مل گئی تھی۔ اور وہ پاکستان کو دو حصوں میں تقسیم کراکے مل گئی۔ یہ وہی کردار تھا جو اس سے پہلے میر جعفر اور میرصادق نے بنگال اور دکن میں ادا کیا تھا جس کے باعث انگریز برصغیر میں مسلمانوں کے اس دو مضبوط قلعے کو فتح کرنے میں کامیاب ہوا۔ بعد ازاں مسلمانوں کے ان دونوں ’’باغی‘‘ کو (جسے سلطان بنانے کی پیش کش کی گئی تھی) انگریزی فوج نے فتح حاصل کرنے کے بعد مار دیا تھا۔ بھٹو اور مجیب الرحمن کا بھی یہی حشر ہوا۔
بھٹو سویلین حکمراں ہوتے ہوئے بھی ملک کے ’’مارشل لا ایڈمنسٹریٹر‘‘ بن گئے۔ یہ دنیا کا واحد سول مارشل لا تھا اور جس کی اجازت امریکا اور جرنیلی ملوک سے حاصل تھی۔ تاہم ذوالفقار علی بھٹو کا باغیانہ ذہن امریکا اور جرنیلی ملوک کے سانچے میں سو فی صد فٹ نہیں بیٹھتا تھا۔ بھٹو بظاہر ایک سویلین قتل کے مقدمے میں عدالتی فیصلے کے تحت 4 اپریل 1979 کو پھانسی پر چڑھ گئے۔ لیکن یہ بات تو یقینی ہے کہ امریکا اور پاکستان کی فوجی ملوکیت کی یہی خواہش تھی۔ دوسری طرف مجیب الرحمن کا بھی کام بہت پہلے ختم ہو چکا تھا۔ بھارت کو بھی بانی بنگلا دیش بحیثیت حکمراں نہیں چاہیے تھا کیوں کہ اس ملک کا بانی تو بھارت خود تھا۔ مجیب الرحمن بنگلا دیش کی اپنی ہی (اب بھارت کی) نئی فوج کے ہاتھوں 15اگست 1975کو مارا گیا۔ وہ دن بھارت کی آزادی کی سالگرہ کا دن تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو نے کئی اہم فیصلے ملک کے مفاد میں کیے یعنی1973 کا دستور، نیوکلر پروگرام، کشمیر کے مسئلہ پر جمنا، قادیانیت کا ابتال، اسلامی سربراہ کانفرنس کا انعقاد، جمعہ کی چھٹی کے ذریعے ملک کو علامتی اسلامی ملک بنانا، عالم اسلام کے ایک ابھرتے ہوئے قائد شاہ فیصل مرحوم کے ساتھ کھڑے ہونا وغیرہ۔ لیکن اب بھٹو امریکا کی نگاہ میں گر چکے تھے۔ ان کی پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی نصف پاکستان کی حکومت جرنیلی ملوک نے 16 ستمبر 1978 کو ختم کرکے حکومت براہ راست سنبھال لی۔ دسمبر 1979 میں سویت یونین کی فوج افغانستان میں آئی، جس کے آثار 1978 میں واضح ہو چکے تھے۔ یہ امریکا کے لیے بہت بڑی مشکل کا باعث تھا (یہ پاکستان کے لیے بھی مشکل تھا) اور تاریخ کے ہر اہم موڑ پر جب امریکا کو پاکستان سے بڑی خدمت لینی ہوتی ہے، پارلیمنٹ اور جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے، ایسے ہر موقع پر ایک ایسے آمر کی ضرورت ہوتی ہے جو امریکا کے سوا کسی کی نہ سنے اور تن تنہا فیصلہ کر سکے۔ سویت یونین کا مقابلہ اسلام کے تصور جہاد کے سوا کسی چیز سے ممکن نہ تھا۔ اس لیے ایک ایسے جرنیل کو لایا گیا جو ذاتی زندگی میں صوم و صلوٰۃ کا پابند تھا۔ اس کے گرد ایسے لوگ جمع ہوتے گئے جو ملک میں اسلامی نظام بھی چاہتے تھے اور سویت یونین کی افغانستان سے واپسی بھی چاہتے تھے۔ علاوہ ازیں وہ افغان مجاہدین کی مدد بھی کرنا چاہتے تھے۔ اور یہ خواہش ایک فطری خواہش تھی۔ یہاں پر امریکی مفاد اور پاکستان کا ملی مفاد یکساں ہو گیا۔ اس لیے یہ جرنیلی ملوکیت پاکستانی عوام سے کیے گئے تمام وعدہ خلافیوں کے باوجود آرام سے حکومت کرتی رہی۔ اس جرنیلی ملوک نے بعض دور رس اچھے فیصلے بھی کیے۔ اسی وجہ سے آج کے پاکستان کا لبرل عنصر جنرل ضیاء الحق سے سخت نفرت کرتا ہے، جب کہ ہر صحیح فکر انسان ضیاء الحق کی بعض غلطیوں پر تنقید کرنے کے باوجود پاکستان کا اب تک کا سب سے بہترین حکمراں ہی سمجھتا ہے۔
افغانستان جہاد کی کامیابی کی وجوہ میں شہید جنرل ضیا الحق کی قیادت اور ان کردار نمایاں ہے۔ وہ پاکستان افغانستان اور وسط ایشیا کو ایک لڑی میں پرونا چاہتے تھے، وہ اس خطے کو پاکستان اتحادی مسلم سمندر بنانا چاہتے تھے جس میں بھارت ایک چھوٹا جزیرہ بن جائے۔ پاکستان کی معلوم دشمن عالمی طاقتوں کو جنرل ضیاء الحق کے نئے عزائم کا علم تھا۔ وہ افغانستان سے سویت یونین کے انخلا کے بعد جنرل ضیاء الحق اور پاکستان کے ان تمام جرنلوں کو راستہ سے ہٹانا چاہتے تھے، جنہوں نے افغان جہاد کی منصوبہ بنی کی تھی اور تاریخ کی ایک اہم ترین خفیہ جنگ کامیابی سے لڑی تھی۔ انہوں نے اس کی گہری منصوبہ بندی کی اور پاکستان فوج کے اندر کے میر جعفروں اور میر صادقوں جیسے کرداروں کی مدد سے 17 اگست 1988 کو سی 130ہرکولیس جہاز کو تباہ کرکے جنرل ضیا الحق، جنرل اختر عبدالرحمن اور دیگر اہم جرنیلوں کو شہید کیا گیا۔ 16 دسمبر 1971 کے بعد یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک سب سے المناک حادثہ ہے۔ اس حادثہ کے بعد پاکستان اپنے منزل مقصود سے بہت دور پیچھے ہٹتا چلا گیا ہے۔ 2005 میں بھارت میں امریکا کے سفیر جان گنتھر ڈین (John Gunther Dean) نے ’’ورلڈ پالیسی جرنل‘‘ کے Fall ایشو میں اپنے ایک مضمون میں لکھا کہ: ’’جنرل ضیاء الحق کے قتل میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ہاتھ ہے کیوں کہ جنرل ضیاء الحق نے انڈیا کے مقابلے میں پاکستان کو نیوکلیر طاقت بنایا تھا اور جو ایک موثر عالمی مسلم لیڈر کی حیثیت سے امریکا کی خارجہ پالیسی کو متاثر کرسکتے تھے۔‘‘
جنرل اسلم بیگ، جرنیلی ملوکیت کے اگلے بادشاہ تھے۔ لیکن اپنی فوجی حکومت کو برقرار رکھنے کی اجازت اور ہمت نہیں رکھتے تھے۔ حکومت اب سویلین بھٹو ملوکیت کے پاس واپس جانی تھی۔ اور مغرب کی چہیتی مرحومہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی وزیر اعظم بن گئیں۔ 1988 کے عام انتخاب میں اسلامی جمہوری اتحاد (آئی جے آئی) جو 9 جماعتوں کا اتحاد تھا اور جس کی اہم جماعتیں پاکستان مسلم لیگ، نیشنل پیپلز پارٹی (غلام مصطفیٰ جتوئی)، اور جماعت اسلامی تھی، ہار گئی۔ اس انتخاب میں میاں نواز شریف حزب مخالف کے ایک مقبول اور موثر رہنما کی حیثیت سے ابھرے۔ اور پنجاب کی صوبائی حکومت انہوں نے بنائی۔
میاں محمد نواز شریف نے اندازہ لگا لیا کہ طاقت کا اصل مرکز ملک سے باہر ہے۔ ملک کے اندر کتنا بڑا اور کتنا موثر اتحاد بھی ہو، امریکی آشرباد اور فوجی تعاون کے بغیر حکومت نہیں ملے گی۔ چناں چہ ان کا آئندہ سیاسی سفر اسی راستہ پر چل پڑا، باقی دیگر جماعتیں خصوصاً جماعت اسلامی سے ان کی دوری بڑھنے لگی۔ یہ اتحاد جیسے تیسے اگلے انتخاب تک کھنچا۔ بے نظیر بھٹو کی غیر مقبولیت کے باعث وہ حکومت بنانے میں بھی کامیاب ہوئے۔ دستوری ترمیم جس میں حکومت کی برخواستی کا اختیار صدر مملکت کو حاصل ہے، صدر مملکت غلام اسحٰق خاں نے بے نظیر بھٹو اور نواز شریف کی حکومت کو باری باری رخصت کیا۔ دونوں کو کرپٹ اور ملکی سالمیت کے لیے خطرہ گردانا گیا تھا۔
وہ خصوصی صدارتی اختیار ختم ہو گیا جس سے حکومت اور پارلیمنٹ برخواست کی جاتی رہی تھی۔ اب میاں نواز شریف دو تہائی اکثریت، اپنا پسندیدہ صدر اور اپنے نامزد جرنل کی فوجی سربراہی میں حکومت کے مزے لے رہے تھے اور چین کی بانسری بجا رہے تھے کہ اچانک ان کے کرپشن کے خلاف تحریک شروع ہو گئی۔ 9/11 کا منصوبہ بہت پہلے بن چکا تھا جیسا کہ امریکا اور مغرب میں شائع ہونے والی متعدد کتابوں اور سیکڑوں تحقیقی مضامین سے معلوم ہوتا ہے۔ 9/11 کے بغیر عراق پر حملہ کر کے اس کیے تیل کے ذخائر پر براہ راست قبضہ اور بینکوں اور سرکاری خزانوں اور محلوں میں موجود ٹنوں سونا لوٹنا آسان نہ تھا۔ امریکی رائے عامہ اس کے خلاف تھی۔ واشنگٹن، نیو یارک، کیلی فورنیا اور دیگر شہروں میں بڑے بڑے مظاہرے ہو رہے تھے۔ بعض مظاہروں کی تعداد ایک ملین سے بھی تجاوز کر چکی تھی۔ 9/11 کے بغیر عوامی ردعمل اور احتجاج کو روکا نہیں جا سکتا تھا۔ نیویارک کے جڑواں ٹاور کے انہدام نے حالات کا رخ موڑ دیا۔ مظاہرین کی ہمت جواب دے گئی اور اس کا جواز ختم ہو گیا۔ اور اس کے بعد امریکی استعمار کا کام آسان ہو گیا۔ عراق سے قبل افغانستان پرحملہ اور طالبان کی حکومت کا خاتمہ، پسندیدہ حکومت کا قیام بھی امریکی منصوبہ بندی کا حصہ تھا۔
نئے حالات اور آنے والے معرکے میں امریکا کو پاکستان میں تمام معاملات طے کرنے کے لیے ایک نفری فوجی حکمراں کی ضرورت تھی۔ یہ مرحلہ کس طرف طے ہو؟ میاں نواز شریف کے خلاف تیز ترین بدعنوانی تحریک نے ان کو ادھ موا کر دیا تھا، دوسری طرف جنرل مشرف کو پاکستان کا ہیرو بنانے کے لیے ان کو اجازت دے دی گئی کہ وہ کشمیر میں کارگل پر قبضہ کر لیں۔ کچھ دنوں کے بعد انہیں قبضہ چھوڑنے کا حکم مل گیا۔ لیکن اس درمیان جنرل مشرف اس وقت کے پاکستان کے سب سے زیادہ پسندیدہ شخص بنا دیے گئے تھے۔ جس وقت جنرل مشرف کے طیارے کو نہ اترنے کی اجازت کا ڈراما رچایا تھا اس وقت رائے عامہ جنرل مشرف کے ساتھ تھی۔ وہ قوم کے ہیرو تھے اور دو تہائی سے زیادہ پارلیمنٹ میں حمایت رکھنے والے میاں نواز شریف زیرو ہو چکے تھے۔
جنرل مشرف جب میڈیا میں حکمران کی حیثیت سے آئے تو کتا ان کے ہاتھ میں تھا اور جنرل کمال اتا ترک ان کا آئیڈیل رہنما تھا۔ واضح ہو چکا تھا کہ وہ کیا کرنے آئے ہیں اور کس مقصد کے لیے آئے ہیں۔ اس نے پاکستان میں ایک نئی سیکولر فصل اگائی جس کو آج کاٹا جا رہا ہے۔ یہ فصل مسلسل اگ بھی رہی ہے اور کٹ بھی رہی ہے

جنرل مشرف نے ملک کو سیکولرائز کرنے کے لیے باضابطہ منصوبہ بند طریقہ سے کام کیا، اور امریکی غلامی کو بھرپور انداز سے کھایا بھی اور پیا بھی۔ جس وقت وہ حکمراں بنے، عدالت عظمیٰ نے سودی معیشت کے خلاف اپنا حتمی فیصلہ دے دیا تھا۔ اور میاں نواز شریف کی تمام اپیلیں اور غیر سودی نظام کو معطل کرنے کی دراخواستیں مسترد ہو چکی تھیں۔ لیکن عدالت عظمیٰ کا یہ حتمی فیصلہ اب نئے جرنیلی ملوکیت کے بوٹوں کے نیچے تھا۔ اسلامی شریعت، شعائر، ثقافت، ادارے سب استہزا کے موضوع بن چکا تھے۔ لبرلزم اور پرانے جاہلی نظام کو ’’روشن خیالی‘‘ کہا جانے لگا۔
مشرف دور میں لبرل اور ترقی یافتہ جاہلی ثقافت کو عروج حاصل ہوا۔ ویلنٹائن ڈے سے لے کر مغرب کا کوئی بھی ایسا دن نہیں جس کو پاکستان میں فروغ نہ دیا گیا ہو۔ دوسری طرف اسلام کے جتنے علامتی مظاہر ہیں انہیں ختم کر نے کی کوشش شروع ہوئی۔ اسلام آباد میں شراب خانے اور نائٹ کلبوں کو عروج حاصل ہوا۔ اسلام آباد کی لال مسجد کے ائمہ اور مدرسہ جامعہ حفصہ کی طالبات نے جب ’’اسلام آباد‘‘ میں بڑھتی ہوئی عریانی اور فحاشی پر احتجاج کا سلسلہ شروع کیا تو لال مسجد پر فوجی یلغار کرکے سیکڑوں طالبات اور علما کو شہید کر دیا گیا۔ افسوس دینی جماعتیں اس آپریشن کو روکنے او ر اس ظلم کے خلاف متحد نہ ہو سکیں۔ یہ واقع امرتسر کے سکھوں کے گولڈن ٹیمپل پر حملے سے مناسبت رکھتا ہے۔ جب سکھوں کے مذہبی رہنما جرنیل سنگھ بھنڈراں والا نے امرتسر کو سکھوں کا مذہبی شہر قرار دے کر اس میں کی جانے والی برائیوں پر پابندی کا مطالبہ کیا تھا تو آنجہانی مسز اندراگاندھی نے فوجی یلغار کا حکم دیا تھا۔ آپریشن بلیو اسٹار میں بھارتی فوج ٹینکوں سمیت گولڈن ٹمپل میں گھس گئی اور بھنڈراں والا سمیت کئی ہزار سکھوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔
9/11کے بعد امریکی صدر بش کی ایک کال پر پاکستان کا یہ فوجی ملوک ننگا ہو کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے پاکستان کو عملاً امریکا اور ناٹوکی براہ راست تحویل میں دے دیا۔ صوبہ بلوچستان میں امریکی فوجی بیس بنا اور پاکستان کی سرزمین سے افغانستان پر حملہ ہوا۔ طالبان حکومت کو کابل چھوڑ کر پہاڑوں پر جانا پڑا۔ پاکستان کے اس فوجی ملوک نے امریکی اور اس کے اتحادی فوج کو ہر قسم کا تعاون پہنچایا۔ حتیٰ کہ افغانستان کے اسلام آباد میں مقیم سفارت کار کو تمام سفارتی آداب اور قوانین کو بالائے طاق رکھ کر گرفتار کر کے امریکا کے حوالہ کیا گیا۔ طالبان اور افغانستان کی اسلامی قوتوں کو کچلنے میں اس جرنیلی ملوک نے اپنی فوج اور ایجنسیوں کی قوت کو جھونک دیا تھا۔ پاکستان کی شمالی علاقہ جات کی وہ قوتیں جو افغانستان میں اپنے بھائیوں کی مدد کرنا چاہتی تھیں اور اس کا ایک طریقہ اپنے علاقہ سے گزر کر افغانستان جانے والی ناٹو کی سپلائی لائن کو روکنا تھا۔ پاکستانی جرنیل نے اپنی پوری فوجی قوت سے اس طاقت کو کچل دیا، گو کہ اس میں کافی عرصہ لگا، اور فوج اور پاکستان کا اپنا بے پناہ جانی اور مالی نقصان ہوا۔ لیکن غلامی کی خوگر افراد اور قومیں آقا کی جان، عزت اور آبرو کی حفاظت کے لیے اپنا سب کچھ شوق سے لٹاتی ہیں، سو وہ لٹاتی رہیں۔
امریکا کو کھلی آزادی تھی کہ وہ ملک میں جہاں چاہے ڈرون حملے کرے۔ 2004 سے پاکستان میں ہزاروں ڈرون حملے ہو چکے ہیں۔ نیو امریکن فاونڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق اس میں اب تک 3077 لوگوں کی ہلاکت ہوئی ہے، جن میں 207بچے شامل ہیں (ویکیپیڈیا)۔ حالاں کہ حقیقتاً یہ اعداد و شمار کہیں زیادہ ہے۔ان اموات کی ذمے دار براہ راست جنرل مشرف (جرنیلی ملوک) اور بعد کے دونوں کی سویلین ملوک ہے کیوں کہ انہیں کی اجازت اور تعاون سے یہ حملے ہوتے رہے ہیں۔
امریکا اور اس کے اتحادیوں کو ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف جنگ کے اسموک اسکرین سے جو کام کرنا تھا وہ یہ کہ: (1) مسلم ممالک کے ذرائع، وسائل، اور دولت پر قبضہ (2) مسلم دنیا میں اندرونی خلفشار، اور ان کے تمام اختلافات کو ابھارنا اور ہوا دینا (3) مسلمانوں کے مختلف گروہوں کے درمیان اور پورے ملک میں سول وار (4) مسلمانوں کا مراکز اسلامیہ سے بڑے پیمانے پر انخلا (5) گریٹر اسرائیل کے لیے راہ کی ہمواری۔
ان مقاصد کے حصول کے لیے امریکا کو مسلم ممالک سے کچھ کلائنٹ اسٹیٹ (گاہک ریاست) کی ضرورت تھی۔ حکمراں جنرل مشرف کے پاکستان نے فوجی اور انٹیلی جنس کی طاقت سے، اور سعودی عربیہ اور کویت نے مالی طاقت سے امریکا اور اس کے اتحادیوں کی بھرپور مدد کی۔ پاکستان میں سویلین ملوک پر تنقید کرنے والے تو بہت تھے لیکن اس فوجی ملوک پر تنقید کرنے والا سیاست کے میدان کے واحد مرد مجاہد سید منور حسین، سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان تھے۔ لیکن ان کی حق گوئی اور جرات اظہار کی تعریف کے بجائے ان پر چاروں طرف سے طعن و تشنیع شروع ہوگئی جن میں بعض اندرونی حلقے بھی شامل تھے۔
یروشلم کو اسرائیل کا مرکز قرار دینے کی امریکی قوت کا آغاز پاکستان کے اسی جرنیلی ملوک (مشرف) کی مدد سے ہوتا ہے۔ امریکا کی طرف سے نام نہاد عوامی دہشت گردی کا ڈھول بجائے رکھنے، اور امریکی اتحادی ریاستی دہشت گردی کا جواز بنائے رکھنے کے لیے جنرل مشرف نے تین ہزار سے زیادہ معصوم لوگوں کو جن کا قصور یہ تھا کہ ان کے چہرے پر ڈاڑھیاں تھیں اور ان کا لباس اسلامی تھا، امریکی ایجنسیوں کے حوالے کیا۔ انہیں کے جسموں سے گوانتانامو بے کے جیل کو سجایا گیا اور انہیں جسموں سے ٹپکتے خون سے اس کو دھویا گیا۔ اب بھی ہزاروں نوجوان لاپتا ہیں جن کے لواحقین پاکستان میں تحریکیں چلا کر اور مطالبات کر کے تھک چکے ہیں۔ انہیں نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہیں یا شہید۔ خود جنرل مشرف نے اپنی کتاب میں امریکا کو اپنی خدمت گنواتے ہوئے لکھا ہے کہ اس نے 3ہزار سے زیادہ اپنے لوگوں کو پکڑ کر امریکا کے حوالے کیا تھا۔
جنرل مشرف کی جرنیلی ملوکیت کا دور پاکستان کا سیاہ ترین دور تھا۔ اس میں پاکستانی اقدار، پاکستانی مفاد، امت مسلمہ کا وقار سب خاک میں مل گیا۔ پاکستان کی تمام خیر کی قوتوں کو چاہیے تھا کہ دستور کی معطلی کے اعلیٰ ترین بغاوت کیس، لاپتا افراد، اور معصوم پاکستانیوں کو امریکا کے حوالے کرنے، اور پاکستان کی ہزیمت میں ملوث اس شخص کو اپنے کیفر کردار تک پہنچاتے۔ لیکن ایسا نہیں ہوا بلکہ اس کے بعد کی اب تک کی ساری سیاست، اور پس پردہ قوت اس ایک شخص کے تحفظ کے خاطر لگی رہی۔
جنرل مشرف کے بعد ایک بار پھر بھٹو اور شریف ملوک ایک ایک دور پورا کر چکے ہیں۔ ان دونوں نے لڑھکنے کی رفتار مزید تیز کر دی۔ اب نوازشریف کی نااہلیت کے بعد ایسا لگتا ہے کہ ان دونوں ملوک (شریف اور بھٹو) کا بھی خاتمہ ہو چکا ہے، اور فوجی ملوک کے امکانات پھر بہت بڑھ گئے ہیں۔ یہ نااہلی بھی جس وجہ سے ہوئی ہے اس کا ثبوت بھی فوج ہی نے فراہم کیا ہے۔ اور یہ بات بھی ناقابل یقین ہے کہ عدلیہ آزادانہ اور بغیر دباؤ کے فیصلے کر رہی ہے۔ تاہم ملک کی انتظامی اور معاشی حالات اس قدر ابتر ہو چکے ہیں کہ فوج کو اقتدار لینے سے پہلے سو بار سوچنا پڑے گا۔ اس کے لیے شاید ایک مزید بکرے (سیاسی جماعت اور حکومت) کی قربانی چاہیے اور اس کے لیے عمران خان اور ان کی تحریک انصاف تیار ہو چکی ہے۔ عمران خاں کی اہلیت (جب کی ان کی جماعت کے دوسرے نمبر کے قائد جہانگیر ترین نااہل قرار دیے جا چکے ہیں، کے عدالتی فیصلے کے بعد اب عمران خان اور حکومت کے درمیان فاصلہ شاید کم رہ گیا ہے۔ نئی جماعت کی نئی حکومت کے ناکام تجربہ کے بعد عوامی مایوسی میں اضافہ ہوگا اور فوجی ملوک کے امکانات بڑھ جائیں گے۔ خدا معلوم کہ پاکستان کو بدقسمتی کے نہ جانے کتنے دور اور دیکھنے ہیں۔
علماء کو ایک بھرپو سیاسی اور سماجی قوت کے طور پر ابھر کر عوام کی مدد اور رہنمائی کو آنا ہوگا اور قربانیاں دینی ہوں گی۔ اس کے بغیر پاکستان کا مستقبل کچھ بھی نہیں ہے۔ ہم ان شاء اللہ آئندہ انہیں کالموں میں اپنے علم کے مطابق (جس کا ماخذ قرآن و سنت ہے) اس سیاسی راستے کی نشان دہی کریں گے جس پر چل کر ہی پاکستان اور ساری دنیا کے مسلم عوام کامیابی کی منزل طے کر سکتے ہیں۔

Amir Jafri

Really nice..will read again to digest .

Your Comment